[1] اے رب، اے انتقام لینے والے خدا! اے انتقام لینے والے خدا، اپنا نور چمکا۔
[2] اے دنیا کے منصف، اُٹھ کر مغروروں کو اُن کے اعمال کی مناسب سزا دے۔
[3] اے رب، بےدین کب تک، ہاں کب تک فتح کے نعرے لگائیں گے؟
[4] وہ کفر کی باتیں اُگلتے رہتے، تمام بدکار شیخی مارتے رہتے ہیں۔
[5] اے رب، وہ تیری قوم کو کچل رہے، تیری موروثی ملکیت پر ظلم کر رہے ہیں۔
[6] بیواؤں اور اجنبیوں کو وہ موت کے گھاٹ اُتار رہے، یتیموں کو قتل کر رہے ہیں۔
[7] وہ کہتے ہیں، ”یہ رب کو نظر نہیں آتا، یعقوب کا خدا دھیان ہی نہیں دیتا۔“
[8] اے قوم کے نادانو، دھیان دو! اے احمقو، تمہیں کب سمجھ آئے گی؟
[9] جس نے کان بنایا، کیا وہ نہیں سنتا؟ جس نے آنکھ کو تشکیل دیا کیا وہ نہیں دیکھتا؟
[10] جو اقوام کو تنبیہ کرتا اور انسان کو تعلیم دیتا ہے کیا وہ سزا نہیں دیتا؟
[11] رب انسان کے خیالات جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ دم بھر کے ہی ہیں۔
[12] اے رب، مبارک ہے وہ جسے تُو تربیت دیتا ہے، جسے تُو اپنی شریعت کی تعلیم دیتا ہے
[13] تاکہ وہ مصیبت کے دنوں سے آرام پائے اور اُس وقت تک سکون سے زندگی گزارے جب تک بےدینوں کے لئے گڑھا تیار نہ ہو۔
[14] کیونکہ رب اپنی قوم کو رد نہیں کرے گا، وہ اپنی موروثی ملکیت کو ترک نہیں کرے گا۔
[15] فیصلے دوبارہ انصاف پر مبنی ہوں گے، اور تمام دیانت دار دل اُس کی پیروی کریں گے۔
[16] کون شریروں کے سامنے میرا دفاع کرے گا؟ کون میرے لئے بدکاروں کا سامنا کرے گا؟
[17] اگر رب میرا سہارا نہ ہوتا تو میری جان جلد ہی خاموشی کے ملک میں جا بستی۔
[18] اے رب، جب مَیں بولا، ”میرا پاؤں ڈگمگانے لگا ہے“ تو تیری شفقت نے مجھے سنبھالا۔
[19] جب تشویش ناک خیالات مجھے بےچین کرنے لگے تو تیری تسلیوں نے میری جان کو تازہ دم کیا۔
[20] اے اللہ، کیا تباہی کی حکومت تیرے ساتھ متحد ہو سکتی ہے، ایسی حکومت جو اپنے فرمانوں سے ظلم کرتی ہے؟ ہرگز نہیں!
[21] وہ راست باز کی جان لینے کے لئے آپس میں مل جاتے اور بےقصوروں کو قاتل ٹھہراتے ہیں۔
[22] لیکن رب میرا قلعہ بن گیا ہے، اور میرا خدا میری پناہ کی چٹان ثابت ہوا ہے۔
[23] وہ اُن کی ناانصافی اُن پر واپس آنے دے گا اور اُن کی شریر حرکتوں کے جواب میں اُنہیں تباہ کرے گا۔ رب ہمارا خدا اُنہیں نیست کرے گا۔