Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] آسف کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اللہ یہوداہ میں مشہور ہے، اُس کا نام اسرائیل میں عظیم ہے۔

[2] اُس نے اپنی ماند سالم میں اور اپنا بھٹ کوہِ صیون پر بنا لیا ہے۔

[3] وہاں اُس نے جلتے ہوئے تیروں کو توڑ ڈالا اور ڈھال، تلوار اور جنگ کے ہتھیاروں کو چُور چُور کر دیا ہے۔ (سِلاہ)

[4] اے اللہ، تُو درخشاں ہے، تُو شکار کے پہاڑوں سے آیا ہوا عظیم الشان سورما ہے۔

[5] بہادروں کو لُوٹ لیا گیا ہے، وہ موت کی نیند سو گئے ہیں۔ فوجیوں میں سے ایک بھی ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔

[6] اے یعقوب کے خدا، تیرے ڈانٹنے پر گھوڑے اور رتھ بان بےحس و حرکت ہو گئے ہیں۔

[7] تُو ہی مہیب ہے۔ جب تُو جھڑکے تو کون تیرے حضور قائم رہے گا؟

[8] تُو نے آسمان سے فیصلے کا اعلان کیا۔ زمین سہم کر چپ ہو گئی

[9] جب اللہ عدالت کرنے کے لئے اُٹھا، جب وہ تمام مصیبت زدوں کو نجات دینے کے لئے آیا۔ (سِلاہ)

[10] کیونکہ انسان کا طیش بھی تیری تمجید کا باعث ہے۔ اُس کے طیش کا آخری نتیجہ تیرا جلال ہی ہے۔

[11] رب اپنے خدا کے حضور مَنتیں مان کر اُنہیں پورا کرو۔ جتنے بھی اُس کے ارد گرد ہیں وہ پُرجلال خدا کے حضور ہدیئے لائیں۔

[12] وہ حکمرانوں کو شکستہ روح کر دیتا ہے، اُسی سے دنیا کے بادشاہ دہشت کھاتے ہیں۔

زبور — Chapters