Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، مجھے شریروں سے چھڑا اور ظالموں سے محفوظ رکھ۔

[2] دل میں وہ بُرے منصوبے باندھتے، روزانہ جنگ چھیڑتے ہیں۔

[3] اُن کی زبان سانپ کی زبان جیسی تیز ہے، اور اُن کے ہونٹوں میں سانپ کا زہر ہے۔ (سِلاہ)

[4] اے رب، مجھے بےدین کے ہاتھوں سے محفوظ رکھ، ظالم سے مجھے بچائے رکھ، اُن سے جو میرے پاؤں کو ٹھوکر کھلانے کے منصوبے باندھ رہے ہیں۔

[5] مغروروں نے میرے راستے میں پھندا اور رسّے چھپائے ہیں، اُنہوں نے جال بچھا کر راستے کے کنارے کنارے مجھے پکڑنے کے پھندے لگائے ہیں۔ (سِلاہ)

[6] مَیں رب سے کہتا ہوں، ”تُو ہی میرا خدا ہے، میری التجاؤں کی آواز سن!“

[7] اے رب قادرِ مطلق، اے میری قوی نجات! جنگ کے دن تُو اپنی ڈھال سے میرے سر کی حفاظت کرتا ہے۔

[8] اے رب، بےدین کا لالچ پورا نہ کر۔ اُس کا ارادہ کامیاب ہونے نہ دے، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ سرفراز ہو جائیں۔ (سِلاہ)

[9] اُنہوں نے مجھے گھیر لیا ہے، لیکن جو آفت اُن کے ہونٹ مجھ پر لانا چاہتے ہیں وہ اُن کے اپنے سروں پر آئے!

[10] دہکتے کوئلے اُن پر برسیں، اور اُنہیں آگ میں، اتھاہ گڑھوں میں پھینکا جائے تاکہ آئندہ کبھی نہ اُٹھیں۔

[11] تہمت لگانے والا ملک میں قائم نہ رہے، اور بُرائی ظالم کو مار مار کر اُس کا پیچھا کرے۔

[12] مَیں جانتا ہوں کہ رب عدالت میں مصیبت زدہ کا دفاع کرے گا۔ وہی ضرورت مند کا انصاف کرے گا۔

[13] یقیناً راست باز تیرے نام کی ستائش کریں گے، اور دیانت دار تیرے حضور بسیں گے۔

زبور — Chapters