[1] اے راست بازو، رب کی خوشی مناؤ! کیونکہ مناسب ہے کہ سیدھی راہ پر چلنے والے اُس کی ستائش کریں۔
[2] سرود بجا کر رب کی حمد و ثنا کرو۔ اُس کی تمجید میں دس تاروں والا ساز بجاؤ۔
[3] اُس کی تمجید میں نیا گیت گاؤ، مہارت سے ساز بجا کر خوشی کے نعرے لگاؤ۔
[4] کیونکہ رب کا کلام سچا ہے، اور وہ ہر کام وفاداری سے کرتا ہے۔
[5] اُسے راست بازی اور انصاف پیارے ہیں، دنیا رب کی شفقت سے بھری ہوئی ہے۔
[6] رب کے کہنے پر آسمان خلق ہوا، اُس کے منہ کے دم سے ستاروں کا پورا لشکر وجود میں آیا۔
[7] وہ سمندر کے پانی کا بڑا ڈھیر جمع کرتا، پانی کی گہرائیوں کو گوداموں میں محفوظ رکھتا ہے۔
[8] کُل دنیا رب کا خوف مانے، زمین کے تمام باشندے اُس سے دہشت کھائیں۔
[9] کیونکہ اُس نے فرمایا تو فوراً وجود میں آیا، اُس نے حکم دیا تو اُسی وقت قائم ہوا۔
[10] رب اقوام کا منصوبہ ناکام ہونے دیتا، وہ اُمّتوں کے ارادوں کو شکست دیتا ہے۔
[11] لیکن رب کا منصوبہ ہمیشہ تک کامیاب رہتا، اُس کے دل کے ارادے پشت در پشت قائم رہتے ہیں۔
[12] مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا رب ہے، وہ قوم جسے اُس نے چن کر اپنی میراث بنا لیا ہے۔
[13] رب آسمان سے نظر ڈال کر تمام انسانوں کا ملاحظہ کرتا ہے۔
[14] اپنے تخت سے وہ زمین کے تمام باشندوں کا معائنہ کرتا ہے۔
[15] جس نے اُن سب کے دلوں کو تشکیل دیا وہ اُن کے تمام کاموں پر دھیان دیتا ہے۔
[16] بادشاہ کی بڑی فوج اُسے نہیں چھڑاتی، اور سورمے کی بڑی طاقت اُسے نہیں بچاتی۔
[17] گھوڑا بھی مدد نہیں کر سکتا۔ جو اُس پر اُمید رکھے وہ دھوکا کھائے گا۔ اُس کی بڑی طاقت چھٹکارا نہیں دیتی۔
[18] یقیناً رب کی آنکھ اُن پر لگی رہتی ہے جو اُس کا خوف مانتے اور اُس کی مہربانی کے انتظار میں رہتے ہیں،
[19] کہ وہ اُن کی جان موت سے بچائے اور کال میں محفوظ رکھے۔
[20] ہماری جان رب کے انتظار میں ہے۔ وہی ہمارا سہارا، ہماری ڈھال ہے۔
[21] ہمارا دل اُس میں خوش ہے، کیونکہ ہم اُس کے مُقدّس نام پر بھروسا رکھتے ہیں۔
[22] اے رب، تیری مہربانی ہم پر رہے، کیونکہ ہم تجھ پر اُمید رکھتے ہیں۔