Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ اے رب، میرا انصاف کر، کیونکہ میرا چال چلن بےقصور ہے۔ مَیں نے رب پر بھروسا رکھا ہے، اور مَیں ڈانواں ڈول نہیں ہو جاؤں گا۔

[2] اے رب، مجھے جانچ لے، مجھے آزما کر دل کی تہہ تک میرا معائنہ کر۔

[3] کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے رہی ہے، مَیں تیری سچی راہ پر چلتا رہا ہوں۔

[4] نہ مَیں دھوکے بازوں کی مجلس میں بیٹھتا، نہ چالاک لوگوں سے رفاقت رکھتا ہوں۔

[5] مجھے شریروں کے اجتماعوں سے نفرت ہے، بےدینوں کے ساتھ مَیں بیٹھتا بھی نہیں۔

[6] اے رب، مَیں اپنے ہاتھ دھو کر اپنی بےگناہی کا اظہار کرتا ہوں۔ مَیں تیری قربان گاہ کے گرد پھر کر

[7] بلند آواز سے تیری حمد و ثنا کرتا، تیرے تمام معجزات کا اعلان کرتا ہوں۔

[8] اے رب، تیری سکونت گاہ مجھے پیاری ہے، جس جگہ تیرا جلال ٹھہرتا ہے وہ مجھے عزیز ہے۔

[9] میری جان کو مجھ سے چھین کر مجھے گناہ گاروں میں شامل نہ کر! میری زندگی کو مٹا کر مجھے خوں خواروں میں شمار نہ کر،

[10] ایسے لوگوں میں جن کے ہاتھ شرم ناک حرکتوں سے آلودہ ہیں، جو ہر وقت رشوت کھاتے ہیں۔

[11] کیونکہ مَیں بےگناہ زندگی گزارتا ہوں۔ فدیہ دے کر مجھے چھٹکارا دے! مجھ پر مہربانی کر!

[12] میرے پاؤں ہموار زمین پر قائم ہو گئے ہیں، اور مَیں اجتماعوں میں رب کی ستائش کروں گا۔

زبور — Chapters