Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہے وہ قادرِ مطلق کے سائے میں سکونت کرے گا۔

[2] مَیں کہوں گا، ”اے رب، تُو میری پناہ اور میرا قلعہ ہے، میرا خدا جس پر مَیں بھروسا رکھتا ہوں۔“

[3] کیونکہ وہ تجھے چڑی مار کے پھندے اور مہلک مرض سے چھڑائے گا۔

[4] وہ تجھے اپنے شاہ پَروں کے نیچے ڈھانپ لے گا، اور تُو اُس کے پَروں تلے پناہ لے سکے گا۔ اُس کی وفاداری تیری ڈھال اور پُشتہ رہے گی۔

[5] رات کی دہشتوں سے خوف مت کھا، نہ اُس تیر سے جو دن کے وقت چلے۔

[6] اُس مہلک مرض سے دہشت مت کھا جو تاریکی میں گھومے پھرے، نہ اُس وبائی بیماری سے جو دوپہر کے وقت تباہی پھیلائے۔

[7] گو تیرے ساتھ کھڑے ہزار افراد ہلاک ہو جائیں اور تیرے دہنے ہاتھ دس ہزار مر جائیں، لیکن تُو اُس کی زد میں نہیں آئے گا۔

[8] تُو اپنی آنکھوں سے اِس کا ملاحظہ کرے گا، تُو خود بےدینوں کی سزا دیکھے گا۔

[9] کیونکہ تُو نے کہا ہے، ”رب میری پناہ گاہ ہے،“ تُو اللہ تعالیٰ کے سائے میں چھپ گیا ہے۔

[10] اِس لئے تیرا کسی بلا سے واسطہ نہیں پڑے گا، کوئی آفت بھی تیرے خیمے کے قریب پھٹکنے نہیں پائے گی۔

[11] کیونکہ وہ اپنے فرشتوں کو ہر راہ پر تیری حفاظت کرنے کا حکم دے گا،

[12] اور وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس نہ لگے۔

[13] تُو شیرببروں اور زہریلے سانپوں پر قدم رکھے گا، تُو جوان شیروں اور اژدہاؤں کو کچل دے گا۔

[14] رب فرماتا ہے، ”چونکہ وہ مجھ سے لپٹا رہتا ہے اِس لئے مَیں اُسے بچاؤں گا۔ چونکہ وہ میرا نام جانتا ہے اِس لئے مَیں اُسے محفوظ رکھوں گا۔

[15] وہ مجھے پکارے گا تو مَیں اُس کی سنوں گا۔ مصیبت میں مَیں اُس کے ساتھ ہوں گا۔ مَیں اُسے چھڑا کر اُس کی عزت کروں گا۔

[16] مَیں اُسے عمر کی درازی بخشوں گا اور اُس پر اپنی نجات ظاہر کروں گا۔“

زبور — Chapters