Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] زیارت کا گیت۔ مصیبت میں مَیں نے رب کو پکارا، اور اُس نے میری سنی۔

[2] اے رب، میری جان کو جھوٹے ہونٹوں اور فریب دہ زبان سے بچا۔

[3] اے فریب دہ زبان، وہ تیرے ساتھ کیا کرے، مزید تجھے کیا دے؟

[4] وہ تجھ پر جنگجو کے تیز تیر اور دہکتے کوئلے برسائے!

[5] مجھ پر افسوس! مجھے اجنبی ملک مسک میں، قیدار کے خیموں کے پاس رہنا پڑتا ہے۔

[6] اِتنی دیر سے امن کے دشمنوں کے پاس رہنے سے میری جان تنگ آ گئی ہے۔

[7] مَیں تو امن چاہتا ہوں، لیکن جب کبھی بولوں تو وہ جنگ کرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔

زبور — Chapters