[1] رب کے خادم داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ بدکاری بےدین کے دل ہی میں اُس سے بات کرتی ہے۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے اللہ کا خوف نہیں ہوتا،
[2] کیونکہ اُس کی نظر میں یہ بات فخر کا باعث ہے کہ اُسے قصوروار پایا گیا، کہ وہ نفرت کرتا ہے۔
[3] اُس کے منہ سے شرارت اور فریب نکلتا ہے، وہ سمجھ دار ہونے اور نیک کام کرنے سے باز آیا ہے۔
[4] اپنے بستر پر بھی وہ شرارت کے منصوبے باندھتا ہے۔ وہ مضبوطی سے بُری راہ پر کھڑا رہتا اور بُرائی کو مسترد نہیں کرتا۔
[5] اے رب، تیری شفقت آسمان تک، تیری وفاداری بادلوں تک پہنچتی ہے۔
[6] تیری راستی بلندترین پہاڑوں کی مانند، تیرا انصاف سمندر کی گہرائیوں جیسا ہے۔ اے رب، تُو انسان و حیوان کی مدد کرتا ہے۔
[7] اے اللہ، تیری شفقت کتنی بیش قیمت ہے! آدم زاد تیرے پَروں کے سائے میں پناہ لیتے ہیں۔
[8] وہ تیرے گھر کے عمدہ کھانے سے تر و تازہ ہو جاتے ہیں، اور تُو اُنہیں اپنی خوشیوں کی ندی میں سے پلاتا ہے۔
[9] کیونکہ زندگی کا سرچشمہ تیرے ہی پاس ہے، اور ہم تیرے نور میں رہ کر نور کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
[10] اپنی شفقت اُن پر پھیلائے رکھ جو تجھے جانتے ہیں، اپنی راستی اُن پر جو دل سے دیانت دار ہیں۔
[11] مغروروں کا پاؤں مجھ تک نہ پہنچے، بےدینوں کا ہاتھ مجھے بےگھر نہ بنائے۔
[12] دیکھو، بدکار گر گئے ہیں! اُنہیں زمین پر پٹخ دیا گیا ہے، اور وہ دوبارہ کبھی نہیں اُٹھیں گے۔