Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ اے میری جان، رب کی ستائش کر! میرا رگ و ریشہ اُس کے قدوس نام کی حمد کرے!

[2] اے میری جان، رب کی ستائش کر اور جو کچھ اُس نے تیرے لئے کیا ہے اُسے بھول نہ جا۔

[3] کیونکہ وہ تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا، تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

[4] وہ عوضانہ دے کر تیری جان کو موت کے گڑھے سے چھڑا لیتا، تیرے سر کو اپنی شفقت اور رحمت کے تاج سے آراستہ کرتا ہے۔

[5] وہ تیری زندگی کو اچھی چیزوں سے سیر کرتا ہے، اور تُو دوبارہ جوان ہو کر عقاب کی سی تقویت پاتا ہے۔

[6] رب تمام مظلوموں کے لئے راستی اور انصاف قائم کرتا ہے۔

[7] اُس نے اپنی راہیں موسیٰ پر اور اپنے عظیم کام اسرائیلیوں پر ظاہر کئے۔

[8] رب رحیم اور مہربان ہے، وہ تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔

[9] نہ وہ ہمیشہ ڈانٹتا رہے گا، نہ ابد تک ناراض رہے گا۔

[10] نہ وہ ہماری خطاؤں کے مطابق سزا دیتا، نہ ہمارے گناہوں کا مناسب اجر دیتا ہے۔

[11] کیونکہ جتنا بلند آسمان ہے، اُتنی ہی عظیم اُس کی شفقت اُن پر ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں۔

[12] جتنی دُور مشرق مغرب سے ہے اُتنا ہی اُس نے ہمارے قصور ہم سے دُور کر دیئے ہیں۔

[13] جس طرح باپ اپنے بچوں پر ترس کھاتا ہے اُسی طرح رب اُن پر ترس کھاتا ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں۔

[14] کیونکہ وہ ہماری ساخت جانتا ہے، اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہی ہیں۔

[15] انسان کے دن گھاس کی مانند ہیں، اور وہ جنگلی پھول کی طرح ہی پھلتا پھولتا ہے۔

[16] جب اُس پر سے ہَوا گزرے تو وہ نہیں رہتا، اور اُس کے نام و نشان کا بھی پتا نہیں چلتا۔

[17] لیکن جو رب کا خوف مانیں اُن پر وہ ہمیشہ تک مہربانی کرے گا، وہ اپنی راستی اُن کے پوتوں اور نواسوں پر بھی ظاہر کرے گا۔

[18] شرط یہ ہے کہ وہ اُس کے عہد کے مطابق زندگی گزاریں اور دھیان سے اُس کے احکام پر عمل کریں۔

[19] رب نے آسمان پر اپنا تخت قائم کیا ہے، اور اُس کی بادشاہی سب پر حکومت کرتی ہے۔

[20] اے رب کے فرشتو، اُس کے طاقت ور سورماؤ، جو اُس کے فرمان پورے کرتے ہو تاکہ اُس کا کلام مانا جائے، رب کی ستائش کرو!

[21] اے تمام لشکرو، تم سب جو اُس کے خادم ہو اور اُس کی مرضی پوری کرتے ہو، رب کی ستائش کرو!

[22] تم سب جنہیں اُس نے بنایا، رب کی ستائش کرو! اُس کی سلطنت کی ہر جگہ پر اُس کی تمجید کرو۔ اے میری جان، رب کی ستائش کر!

زبور — Chapters