Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] رب کی حمد ہو! اے میری جان، رب کی حمد کر۔

[2] جیتے جی مَیں رب کی ستائش کروں گا، عمر بھر اپنے خدا کی مدح سرائی کروں گا۔

[3] شرفا پر بھروسا نہ رکھو، نہ آدم زاد پر جو نجات نہیں دے سکتا۔

[4] جب اُس کی روح نکل جائے تو وہ دوبارہ خاک میں مل جاتا ہے، اُسی وقت اُس کے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔

[5] مبارک ہے وہ جس کا سہارا یعقوب کا خدا ہے، جو رب اپنے خدا کے انتظار میں رہتا ہے۔

[6] کیونکہ اُس نے آسمان و زمین، سمندر اور جو کچھ اُن میں ہے بنایا ہے۔ وہ ہمیشہ تک وفادار ہے۔

[7] وہ مظلوموں کا انصاف کرتا اور بھوکوں کو روٹی کھلاتا ہے۔ رب قیدیوں کو آزاد کرتا ہے۔

[8] رب اندھوں کی آنکھیں بحال کرتا اور خاک میں دبے ہوؤں کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے، رب راست باز کو پیار کرتا ہے۔

[9] رب پردیسیوں کی دیکھ بھال کرتا، یتیموں اور بیواؤں کو قائم رکھتا ہے۔ لیکن وہ بےدینوں کی راہ کو ٹیڑھا بنا کر کامیاب ہونے نہیں دیتا۔

[10] رب ابد تک حکومت کرے گا۔ اے صیون، تیرا خدا پشت در پشت بادشاہ رہے گا۔ رب کی حمد ہو۔

زبور — Chapters