Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ مَیں شفقت اور انصاف کا گیت گاؤں گا۔ اے رب، مَیں تیری مدح سرائی کروں گا۔

[2] مَیں بڑی احتیاط سے بےالزام راہ پر چلوں گا۔ لیکن تُو کب میرے پاس آئے گا؟ مَیں خلوص دلی سے اپنے گھر میں زندگی گزاروں گا۔

[3] مَیں شرارت کی بات اپنے سامنے نہیں رکھتا اور بُری حرکتوں سے نفرت کرتا ہوں۔ ایسی چیزیں میرے ساتھ لپٹ نہ جائیں۔

[4] جھوٹا دل مجھ سے دُور رہے۔ مَیں بُرائی کو جاننا ہی نہیں چاہتا۔

[5] جو چپکے سے اپنے پڑوسی پر تہمت لگائے اُسے مَیں خاموش کراؤں گا، جس کی آنکھیں مغرور اور دل متکبر ہو اُسے برداشت نہیں کروں گا۔

[6] میری آنکھیں ملک کے وفاداروں پر لگی رہتی ہیں تاکہ وہ میرے ساتھ رہیں۔ جو بےالزام راہ پر چلے وہی میری خدمت کرے۔

[7] دھوکے باز میرے گھر میں نہ ٹھہرے، جھوٹ بولنے والا میری موجودگی میں قائم نہ رہے۔

[8] ہر صبح کو مَیں ملک کے تمام بےدینوں کو خاموش کراؤں گا تاکہ تمام بدکاروں کو رب کے شہر میں سے مٹایا جائے۔

زبور — Chapters