Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] اقوام کیوں طیش میں آ گئی ہیں؟ اُمّتیں کیوں بےکار سازشیں کر رہی ہیں؟

[2] دنیا کے بادشاہ اُٹھ کھڑے ہوئے، حکمران رب اور اُس کے مسیح کے خلاف جمع ہو گئے ہیں۔

[3] وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُن کی زنجیروں کو توڑ کر آزاد ہو جائیں، اُن کے رسّوں کو دُور تک پھینک دیں۔“

[4] لیکن جو آسمان پر تخت نشین ہے وہ ہنستا ہے، رب اُن کا مذاق اُڑاتا ہے۔

[5] پھر وہ غصے سے اُنہیں ڈانٹتا، اپنا شدید غضب اُن پر نازل کر کے اُنہیں ڈراتا ہے۔

[6] وہ فرماتا ہے، ”مَیں نے خود اپنے بادشاہ کو اپنے مُقدّس پہاڑ صیون پر مقرر کیا ہے!“

[7] آؤ، مَیں رب کا فرمان سناؤں۔ اُس نے مجھ سے کہا، ”تُو میرا بیٹا ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔

[8] مجھ سے مانگ تو مَیں تجھے میراث میں تمام اقوام عطا کروں گا، دنیا کی انتہا تک سب کچھ بخش دوں گا۔

[9] تُو اُنہیں لوہے کے شاہی عصا سے پاش پاش کرے گا، اُنہیں مٹی کے برتنوں کی طرح چِکنا چُور کرے گا۔“

[10] چنانچہ اے بادشاہو، سمجھ سے کام لو! اے دنیا کے حکمرانو، تربیت قبول کرو!

[11] خوف کرتے ہوئے رب کی خدمت کرو، لرزتے ہوئے خوشی مناؤ۔

[12] بیٹے کو بوسہ دو، ایسا نہ ہو کہ وہ غصے ہو جائے اور تم راستے میں ہی ہلاک ہو جاؤ۔ کیونکہ وہ ایک دم طیش میں آ جاتا ہے۔ مبارک ہیں وہ سب جو اُس میں پناہ لیتے ہیں۔

زبور — Chapters