Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ تاردار سازوں کے ساتھ گانا ہے۔ اے رب، غصے میں مجھے سزا نہ دے، طیش میں مجھے تنبیہ نہ کر۔

[2] اے رب، مجھ پر رحم کر، کیونکہ مَیں نڈھال ہوں۔ اے رب، مجھے شفا دے، کیونکہ میرے اعضا دہشت زدہ ہیں۔

[3] میری جان نہایت خوف زدہ ہے۔ اے رب، تُو کب تک دیر کرے گا؟

[4] اے رب، واپس آ کر میری جان کو بچا۔ اپنی شفقت کی خاطر مجھے چھٹکارا دے۔

[5] کیونکہ مُردہ تجھے یاد نہیں کرتا۔ پاتال میں کون تیری ستائش کرے گا؟

[6] مَیں کراہتے کراہتے تھک گیا ہوں۔ پوری رات رونے سے بستر بھیگ گیا ہے، میرے آنسوؤں سے پلنگ گل گیا ہے۔

[7] غم کے مارے میری آنکھیں سوج گئی ہیں، میرے مخالفوں کے حملوں سے وہ ضائع ہوتی جا رہی ہیں۔

[8] اے بدکارو، مجھ سے دُور ہو جاؤ، کیونکہ رب نے میری آہ و بکا سنی ہے۔

[9] رب نے میری التجاؤں کو سن لیا ہے، میری دعا رب کو قبول ہے۔

[10] میرے تمام دشمنوں کی رُسوائی ہو جائے گی، اور وہ سخت گھبرا جائیں گے۔ وہ مُڑ کر اچانک ہی شرمندہ ہو جائیں گے۔

زبور — Chapters