Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] رب کی حمد ہو! اپنے خدا کی مدح سرائی کرنا کتنا بھلا ہے، اُس کی تمجید کرنا کتنا پیارا اور خوب صورت ہے۔

[2] رب یروشلم کو تعمیر کرتا اور اسرائیل کے منتشر جلاوطنوں کو جمع کرتا ہے۔

[3] وہ دل شکستوں کو شفا دے کر اُن کے زخموں پر مرہم پٹی لگاتا ہے۔

[4] وہ ستاروں کی تعداد گن لیتا اور ہر ایک کا نام لے کر اُنہیں بُلاتا ہے۔

[5] ہمارا رب عظیم ہے، اور اُس کی قدرت زبردست ہے۔ اُس کی حکمت کی کوئی انتہا نہیں۔

[6] رب مصیبت زدوں کو اُٹھا کھڑا کرتا لیکن بدکاروں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

[7] رب کی تمجید میں شکر کا گیت گاؤ، ہمارے خدا کی خوشی میں سرود بجاؤ۔

[8] کیونکہ وہ آسمان پر بادل چھانے دیتا، زمین کو بارش مہیا کرتا اور پہاڑوں پر گھاس پھوٹنے دیتا ہے۔

[9] وہ مویشی کو چارا اور کوّے کے بچوں کو وہ کچھ کھلاتا ہے جو وہ شور مچا کر مانگتے ہیں۔

[10] نہ وہ گھوڑے کی طاقت سے لطف اندوز ہوتا، نہ آدمی کی مضبوط ٹانگوں سے خوش ہوتا ہے۔

[11] رب اُن ہی سے خوش ہوتا ہے جو اُس کا خوف مانتے اور اُس کی شفقت کے انتظار میں رہتے ہیں۔

[12] اے یروشلم، رب کی مدح سرائی کر! اے صیون، اپنے خدا کی حمد کر!

[13] کیونکہ اُس نے تیرے دروازوں کے کنڈے مضبوط کر کے تیرے درمیان بسنے والی اولاد کو برکت دی ہے۔

[14] وہی تیرے علاقے میں امن اور سکون قائم رکھتا اور تجھے بہترین گندم سے سیر کرتا ہے۔

[15] وہ اپنا فرمان زمین پر بھیجتا ہے تو اُس کا کلام تیزی سے پہنچتا ہے۔

[16] وہ اُون جیسی برف مہیا کرتا اور پالا راکھ کی طرح چاروں طرف بکھیر دیتا ہے۔

[17] وہ اپنے اولے کنکروں کی طرح زمین پر پھینک دیتا ہے۔ کون اُس کی شدید سردی برداشت کر سکتا ہے؟

[18] وہ ایک بار پھر اپنا فرمان بھیجتا ہے تو برف پگھل جاتی ہے۔ وہ اپنی ہَوا چلنے دیتا ہے تو پانی ٹپکنے لگتا ہے۔

[19] اُس نے یعقوب کو اپنا کلام سنایا، اسرائیل پر اپنے احکام اور آئین ظاہر کئے ہیں۔

[20] ایسا سلوک اُس نے کسی اَور قوم سے نہیں کیا۔ دیگر اقوام تو تیرے احکام نہیں جانتیں۔ رب کی حمد ہو!

زبور — Chapters