[1] گیت۔ آسف کا زبور۔ اے اللہ، خاموش نہ رہ! اے اللہ، چپ نہ رہ!
[2] دیکھ، تیرے دشمن شور مچا رہے ہیں، تجھ سے نفرت کرنے والے اپنا سر تیرے خلاف اُٹھا رہے ہیں۔
[3] تیری قوم کے خلاف وہ چالاک منصوبے باندھ رہے ہیں، جو تیری آڑ میں چھپ گئے ہیں اُن کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔
[4] وہ کہتے ہیں، ”آؤ، ہم اُنہیں مٹا دیں تاکہ قوم نیست ہو جائے اور اسرائیل کا نام و نشان باقی نہ رہے۔“
[5] کیونکہ وہ آپس میں صلاح مشورہ کرنے کے بعد دلی طور پر متحد ہو گئے ہیں، اُنہوں نے تیرے ہی خلاف عہد باندھا ہے۔
[6] اُن میں ادوم کے خیمے، اسماعیلی، موآب، ہاجری،
[7] جبال، عمون، عمالیق، فلستیہ اور صور کے باشندے شامل ہو گئے ہیں۔
[8] اسور بھی اُن میں شریک ہو کر لوط کی اولاد کو سہارا دے رہا ہے۔ (سِلاہ)
[9] اُن کے ساتھ وہی سلوک کر جو تُو نے مِدیانیوں سے یعنی قیسون ندی پر سیسرا اور یابین سے کیا۔
[10] کیونکہ وہ عین دور کے پاس ہلاک ہو کر کھیت میں گوبر بن گئے۔
[11] اُن کے شرفا کے ساتھ وہی برتاؤ کر جو تُو نے عوریب اور زئیب سے کیا۔ اُن کے تمام سردار زبح اور ضلمُنّع کی مانند بن جائیں،
[12] جنہوں نے کہا، ”آؤ، ہم اللہ کی چراگاہوں پر قبضہ کریں۔“
[13] اے میرے خدا، اُنہیں لُڑھک بوٹی اور ہَوا میں اُڑتے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دے۔
[14] جس طرح آگ پورے جنگل میں پھیل جاتی اور ایک ہی شعلہ پہاڑوں کو جُھلسا دیتا ہے،
[15] اُسی طرح اپنی آندھی سے اُن کا تعاقب کر، اپنے طوفان سے اُن کو دہشت زدہ کر دے۔
[16] اے رب، اُن کا منہ کالا کر تاکہ وہ تیرا نام تلاش کریں۔
[17] وہ ہمیشہ تک شرمندہ اور حواس باختہ رہیں، وہ شرم سار ہو کر ہلاک ہو جائیں۔
[18] تب ہی وہ جان لیں گے کہ تُو ہی جس کا نام رب ہے اللہ تعالیٰ یعنی پوری دنیا کا مالک ہے۔