[1] داؤد کا زبور۔ رب میری چٹان کی حمد ہو، جو میرے ہاتھوں کو لڑنے اور میری اُنگلیوں کو جنگ کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
[2] وہ میری شفقت، میرا قلعہ، میرا نجات دہندہ اور میری ڈھال ہے۔ اُسی میں مَیں پناہ لیتا ہوں، اور وہی دیگر اقوام کو میرے تابع کر دیتا ہے۔
[3] اے رب، انسان کون ہے کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟ آدم زاد کون ہے کہ تُو اُس کا لحاظ کرے؟
[4] انسان دم بھر کا ہی ہے، اُس کے دن تیزی سے گزرنے والے سائے کی مانند ہیں۔
[5] اے رب، اپنے آسمان کو جھکا کر اُتر آ! پہاڑوں کو چھو تاکہ وہ دھواں چھوڑیں۔
[6] بجلی بھیج کر اُنہیں منتشر کر، اپنے تیر چلا کر اُنہیں درہم برہم کر۔
[7] اپنا ہاتھ بلندیوں سے نیچے بڑھا اور مجھے چھڑا کر پانی کی گہرائیوں اور پردیسیوں کے ہاتھ سے بچا،
[8] جن کا منہ جھوٹ بولتا اور دہنا ہاتھ فریب دیتا ہے۔
[9] اے اللہ، مَیں تیری تمجید میں نیا گیت گاؤں گا، دس تاروں کا ستار بجا کر تیری مدح سرائی کروں گا۔
[10] کیونکہ تُو بادشاہوں کو نجات دیتا اور اپنے خادم داؤد کو مہلک تلوار سے بچاتا ہے۔
[11] مجھے چھڑا کر پردیسیوں کے ہاتھ سے بچا، جن کا منہ جھوٹ بولتا اور دہنا ہاتھ فریب دیتا ہے۔
[12] ہمارے بیٹے جوانی میں پھلنے پھولنے والے پودوں کی مانند ہوں، ہماری بیٹیاں محل کو سجانے کے لئے تراشے ہوئے کونے کے ستون کی مانند ہوں۔
[13] ہمارے گودام بھرے رہیں اور ہر قسم کی خوراک مہیا کریں۔ ہماری بھیڑبکریاں ہمارے میدانوں میں ہزاروں بلکہ بےشمار بچے جنم دیں۔
[14] ہمارے گائےبَیل موٹے تازے ہوں، اور نہ کوئی ضائع ہو جائے، نہ کسی کو نقصان پہنچے۔ ہمارے چوکوں میں آہ و زاری کی آواز سنائی نہ دے۔
[15] مبارک ہے وہ قوم جس پر یہ سب کچھ صادق آتا ہے، مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا رب ہے!