Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] مَیں رب سے محبت رکھتا ہوں، کیونکہ اُس نے میری آواز اور میری التجا سنی ہے۔

[2] اُس نے اپنا کان میری طرف جھکایا ہے، اِس لئے مَیں عمر بھر اُسے پکاروں گا۔

[3] موت نے مجھے اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا، اور پاتال کی پریشانیاں مجھ پر غالب آئیں۔ مَیں مصیبت اور دُکھ میں پھنس گیا۔

[4] تب مَیں نے رب کا نام پکارا، ”اے رب، مہربانی کر کے مجھے بچا!“

[5] رب مہربان اور راست ہے، ہمارا خدا رحیم ہے۔

[6] رب سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب مَیں پست حال تھا تو اُس نے مجھے بچایا۔

[7] اے میری جان، اپنی آرام گاہ کے پاس واپس آ، کیونکہ رب نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے۔

[8] کیونکہ اے رب، تُو نے میری جان کو موت سے، میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

[9] اب مَیں زندوں کی زمین میں رہ کر رب کے حضور چلوں گا۔

[10] مَیں ایمان لایا اور اِس لئے بولا، ”مَیں شدید مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“

[11] مَیں سخت گھبرا گیا اور بولا، ”تمام انسان دروغ گو ہیں۔“

[12] جو بھلائیاں رب نے میرے ساتھ کی ہیں اُن سب کے عوض مَیں کیا دوں؟

[13] مَیں نجات کا پیالہ اُٹھا کر رب کا نام پکاروں گا۔

[14] مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔

[15] رب کی نگاہ میں اُس کے ایمان داروں کی موت گراں قدر ہے۔

[16] اے رب، یقیناً مَیں تیرا خادم، ہاں تیرا خادم اور تیری خادمہ کا بیٹا ہوں۔ تُو نے میری زنجیروں کو توڑ ڈالا ہے۔

[17] مَیں تجھے شکرگزاری کی قربانی پیش کر کے تیرا نام پکاروں گا۔

[18] مَیں رب کے حضور اُس کی ساری قوم کے سامنے ہی اپنی مَنتیں پوری کروں گا۔

[19] مَیں رب کے گھر کی بارگاہوں میں، اے یروشلم تیرے بیچ میں ہی اُنہیں پورا کروں گا۔ رب کی حمد ہو۔

زبور — Chapters