[1] داؤد کا زبور۔ حمد و ثنا کا گیت۔ اے میرے خدا، مَیں تیری تعظیم کروں گا۔ اے بادشاہ، مَیں ہمیشہ تک تیرے نام کی ستائش کروں گا۔
[2] روزانہ مَیں تیری تمجید کروں گا، ہمیشہ تک تیرے نام کی حمد کروں گا۔
[3] رب عظیم اور بڑی تعریف کے لائق ہے۔ اُس کی عظمت انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔
[4] ایک پشت اگلی پشت کے سامنے وہ کچھ سراہے جو تُو نے کیا ہے، وہ دوسروں کو تیرے زبردست کام سنائیں۔
[5] مَیں تیرے شاندار جلال کی عظمت اور تیرے معجزوں میں محوِ خیال رہوں گا۔
[6] لوگ تیرے ہیبت ناک کاموں کی قدرت پیش کریں، اور مَیں بھی تیری عظمت بیان کروں گا۔
[7] وہ جوش سے تیری بڑی بھلائی کو سراہیں اور خوشی سے تیری راستی کی مدح سرائی کریں۔
[8] رب مہربان اور رحیم ہے۔ وہ تحمل اور شفقت سے بھرپور ہے۔
[9] رب سب کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، وہ اپنی تمام مخلوقات پر رحم کرتا ہے۔
[10] اے رب، تیری تمام مخلوقات تیرا شکر کریں۔ تیرے ایمان دار تیری تمجید کریں۔
[11] وہ تیری بادشاہی کے جلال پر فخر کریں اور تیری قدرت بیان کریں
[12] تاکہ آدم زاد تیرے قوی کاموں اور تیری بادشاہی کی جلالی شان و شوکت سے آگاہ ہو جائیں۔
[13] تیری بادشاہی کی کوئی انتہا نہیں، اور تیری سلطنت پشت در پشت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔
[14] رب تمام گرنے والوں کا سہارا ہے۔ جو بھی دب جائے اُسے وہ اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔
[15] سب کی آنکھیں تیرے انتظار میں رہتی ہیں، اور تُو ہر ایک کو وقت پر اُس کا کھانا مہیا کرتا ہے۔
[16] تُو اپنی مٹھی کھول کر ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔
[17] رب اپنی تمام راہوں میں راست اور اپنے تمام کاموں میں وفادار ہے۔
[18] رب اُن سب کے قریب ہے جو اُسے پکارتے ہیں، جو دیانت داری سے اُسے پکارتے ہیں۔
[19] جو اُس کا خوف مانیں اُن کی آرزو وہ پوری کرتا ہے۔ وہ اُن کی فریادیں سن کر اُن کی مدد کرتا ہے۔
[20] رب اُن سب کو محفوظ رکھتا ہے جو اُسے پیار کرتے ہیں، لیکن بےدینوں کو وہ ہلاک کرتا ہے۔
[21] میرا منہ رب کی تعریف بیان کرے، تمام مخلوقات ہمیشہ تک اُس کے مُقدّس نام کی ستائش کریں۔