[1] داؤد کا زبور۔ یادداشت کے لئے۔ اے رب، اپنے غضب میں مجھے سزا نہ دے، قہر میں مجھے تنبیہ نہ کر!
[2] کیونکہ تیرے تیر میرے جسم میں لگ گئے ہیں، تیرا ہاتھ مجھ پر بھاری ہے۔
[3] تیری لعنت کے باعث میرا پورا جسم بیمار ہے، میرے گناہ کے باعث میری تمام ہڈیاں گلنے لگی ہیں۔
[4] کیونکہ مَیں اپنے گناہوں کے سیلاب میں ڈوب گیا ہوں، وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن گئے ہیں۔
[5] میری حماقت کے باعث میرے زخموں سے بدبو آنے لگی، وہ گلنے لگے ہیں۔
[6] مَیں کُبڑا بن کر خاک میں دب گیا ہوں، پورا دن ماتمی لباس پہنے پھرتا ہوں۔
[7] میری کمر میں شدید سوزش ہے، پورا جسم بیمار ہے۔
[8] مَیں نڈھال اور پاش پاش ہو گیا ہوں۔ دل کے عذاب کے باعث مَیں چیختا چلّاتا ہوں۔
[9] اے رب، میری تمام آرزو تیرے سامنے ہے، میری آہیں تجھ سے پوشیدہ نہیں رہتیں۔
[10] میرا دل زور سے دھڑکتا، میری طاقت جواب دے گئی بلکہ میری آنکھوں کی روشنی بھی جاتی رہی ہے۔
[11] میرے دوست اور ساتھی میری مصیبت دیکھ کر مجھ سے گریز کرتے، میرے قریب کے رشتے دار دُور کھڑے رہتے ہیں۔
[12] میرے جانی دشمن پھندے بچھا رہے ہیں، جو مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ دھمکیاں دے رہے اور سارا سارا دن فریب دہ منصوبے باندھ رہے ہیں۔
[13] اور مَیں؟ مَیں تو گویا بہرا ہوں، مَیں نہیں سنتا۔ مَیں گونگے کی مانند ہوں جو اپنا منہ نہیں کھولتا۔
[14] مَیں ایسا شخص بن گیا ہوں جو نہ سنتا، نہ جواب میں اعتراض کرتا ہے۔
[15] کیونکہ اے رب، مَیں تیرے انتظار میں ہوں۔ اے رب میرے خدا، تُو ہی میری سنے گا۔
[16] مَیں بولا، ”ایسا نہ ہو کہ وہ میرا نقصان دیکھ کر بغلیں بجائیں، وہ میرے پاؤں کے ڈگمگانے پر مجھے دبا کر اپنے آپ پر فخر کریں۔“
[17] کیونکہ مَیں لڑکھڑانے کو ہوں، میری اذیت متواتر میرے سامنے رہتی ہے۔
[18] چنانچہ مَیں اپنا قصور تسلیم کرتا ہوں، مَیں اپنے گناہ کے باعث غمگین ہوں۔
[19] میرے دشمن زندہ اور طاقت ور ہیں، اور جو بلاوجہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ بہت ہیں۔
[20] وہ نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں۔ وہ اِس لئے میرے دشمن ہیں کہ مَیں بھلائی کے پیچھے لگا رہتا ہوں۔
[21] اے رب، مجھے ترک نہ کر! اے اللہ، مجھ سے دُور نہ رہ!
[22] اے رب میری نجات، میری مدد کرنے میں جلدی کر!