Listen to this chapter
[1] داؤد کا زبور۔ رب نے میرے رب سے کہا، ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔“
[2] رب صیون سے تیری سلطنت کی سرحدیں بڑھا کر کہے گا، ”آس پاس کے دشمنوں پر حکومت کر!“
[3] جس دن تُو اپنی فوج کو کھڑا کرے گا تیری قوم خوشی سے تیرے پیچھے ہو لے گی۔ تُو مُقدّس شان و شوکت سے آراستہ ہو کر طلوعِ صبح کے باطن سے اپنی جوانی کی اوس پائے گا۔
[4] رب نے قَسم کھائی ہے اور اِس سے پچھتائے گا نہیں، ”تُو ابد تک امام ہے، ایسا امام جیسا مَلِک صدق تھا۔“
[5] رب تیرے دہنے ہاتھ پر رہے گا اور اپنے غضب کے دن دیگر بادشاہوں کو چُور چُور کرے گا۔
[6] وہ قوموں میں عدالت کر کے میدان کو لاشوں سے بھر دے گا اور دُور تک سروں کو پاش پاش کرے گا۔
[7] راستے میں وہ ندی سے پانی پی لے گا، اِس لئے اپنا سر اُٹھائے پھرے گا۔
زبور — Chapters
123456789101112131415161718192021222324252627282930313233343536373839404142434445464748495051525354555657585960616263646566676869707172737475767778798081828384858687888990919293949596979899100101102103104105106107108109110111112113114115116117118119120121122123124125126127128129130131132133134135136137138139140141142143144145146147148149150