Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ گیت۔ اے اللہ، میرا دل مضبوط ہے۔ مَیں ساز بجا کر تیری مدح سرائی کروں گا۔ اے میری جان، جاگ اُٹھ!

[2] اے ستار اور سرود، جاگ اُٹھو! مَیں طلوعِ صبح کو جگاؤں گا۔

[3] اے رب، مَیں قوموں میں تیری ستائش، اُمّتوں میں تیری مدح سرائی کروں گا۔

[4] کیونکہ تیری شفقت آسمان سے کہیں بلند ہے، تیری وفاداری بادلوں تک پہنچتی ہے۔

[5] اے اللہ، آسمان پر سرفراز ہو! تیرا جلال پوری دنیا پر چھا جائے۔

[6] اپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر کے میری سن تاکہ جو تجھے پیارے ہیں نجات پائیں۔

[7] اللہ نے اپنے مقدِس میں فرمایا ہے، ”مَیں فتح مناتے ہوئے سِکم کو تقسیم کروں گا اور وادیٔ سُکات کو ناپ کر بانٹ دوں گا۔

[8] جِلعاد میرا ہے اور منسّی میرا ہے۔ افرائیم میرا خود اور یہوداہ میرا شاہی عصا ہے۔

[9] موآب میرا غسل کا برتن ہے، اور ادوم پر مَیں اپنا جوتا پھینک دوں گا۔ مَیں فلستی ملک پر زوردار نعرے لگاؤں گا!“

[10] کون مجھے قلعہ بند شہر میں لائے گا؟ کون میری راہنمائی کر کے مجھے ادوم تک پہنچائے گا؟

[11] اے اللہ، تُو ہی یہ کر سکتا ہے، گو تُو نے ہمیں رد کیا ہے۔ اے اللہ، تُو ہماری فوجوں کا ساتھ نہیں دیتا جب وہ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں۔

[12] مصیبت میں ہمیں سہارا دے، کیونکہ اِس وقت انسانی مدد بےکار ہے۔

[13] اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے، کیونکہ وہی ہمارے دشمنوں کو کچل دے گا۔

زبور — Chapters