Listen to this chapter
[1] آسف کا زبور۔ اللہ الٰہی مجلس میں کھڑا ہے، معبودوں کے درمیان وہ عدالت کرتا ہے،
[2] ”تم کب تک عدالت میں غلط فیصلے کر کے بےدینوں کی جانب داری کرو گے؟ (سِلاہ)
[3] پست حالوں اور یتیموں کا انصاف کرو، مصیبت زدوں اور ضرورت مندوں کے حقوق قائم رکھو۔
[4] پست حالوں اور غریبوں کو بچا کر بےدینوں کے ہاتھ سے چھڑاؤ۔“
[5] لیکن وہ کچھ نہیں جانتے، اُنہیں سمجھ ہی نہیں آتی۔ وہ تاریکی میں ٹٹول ٹٹول کر گھومتے پھرتے ہیں جبکہ زمین کی تمام بنیادیں جھومنے لگی ہیں۔
[6] بےشک مَیں نے کہا، ”تم خدا ہو، سب اللہ تعالیٰ کے فرزند ہو۔
[7] لیکن تم فانی انسان کی طرح مر جاؤ گے، تم دیگر حکمرانوں کی طرح گر جاؤ گے۔“
[8] اے اللہ، اُٹھ کر زمین کی عدالت کر! کیونکہ تمام اقوام تیری ہی موروثی ملکیت ہیں۔
زبور — Chapters
123456789101112131415161718192021222324252627282930313233343536373839404142434445464748495051525354555657585960616263646566676869707172737475767778798081828384858687888990919293949596979899100101102103104105106107108109110111112113114115116117118119120121122123124125126127128129130131132133134135136137138139140141142143144145146147148149150