Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ شریروں کے باعث بےچین نہ ہو جا، بدکاروں پر رشک نہ کر۔

[2] کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد ہی مُرجھا جائیں گے، ہریالی کی طرح جلد ہی سوکھ جائیں گے۔

[3] رب پر بھروسا رکھ کر بھلائی کر، ملک میں رہ کر وفاداری کی پرورش کر۔

[4] رب سے لطف اندوز ہو تو جو تیرا دل چاہے وہ تجھے دے گا۔

[5] اپنی راہ رب کے سپرد کر۔ اُس پر بھروسا رکھ تو وہ تجھے کامیابی بخشے گا۔

[6] تب وہ تیری راست بازی سورج کی طرح طلوع ہونے دے گا اور تیرا انصاف دوپہر کی روشنی کی طرح چمکنے دے گا۔

[7] رب کے حضور چپ ہو کر صبر سے اُس کا انتظار کر۔ بےقرار نہ ہو اگر سازشیں کرنے والا کامیاب ہو۔

[8] خفا ہونے سے باز آ، غصے کو چھوڑ دے۔ رنجیدہ نہ ہو، ورنہ بُرا ہی نتیجہ نکلے گا۔

[9] کیونکہ شریر مٹ جائیں گے جبکہ رب سے اُمید رکھنے والے ملک کو میراث میں پائیں گے۔

[10] مزید تھوڑی دیر صبر کر تو بےدین کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تُو اُس کا کھوج لگائے گا، لیکن کہیں نہیں پائے گا۔

[11] لیکن حلیم ملک کو میراث میں پا کر بڑے امن اور سکون سے لطف اندوز ہوں گے۔

[12] بےشک بےدین دانت پیس پیس کر راست باز کے خلاف سازشیں کرتا رہے۔

[13] لیکن رب اُس پر ہنستا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا انجام قریب ہی ہے۔

[14] بےدینوں نے تلوار کو کھینچا اور کمان کو تان لیا ہے تاکہ ناچاروں اور ضرورت مندوں کو گرا دیں اور سیدھی راہ پر چلنے والوں کو قتل کریں۔

[15] لیکن اُن کی تلوار اُن کے اپنے دل میں گھونپی جائے گی، اُن کی کمان ٹوٹ جائے گی۔

[16] راست باز کو جو تھوڑا بہت حاصل ہے وہ بہت بےدینوں کی دولت سے بہتر ہے۔

[17] کیونکہ بےدینوں کا بازو ٹوٹ جائے گا جبکہ رب راست بازوں کو سنبھالتا ہے۔

[18] رب بےالزاموں کے دن جانتا ہے، اور اُن کی موروثی ملکیت ہمیشہ کے لئے قائم رہے گی۔

[19] مصیبت کے وقت وہ شرم سار نہیں ہوں گے، کال بھی پڑے تو سیر ہوں گے۔

[20] لیکن بےدین ہلاک ہو جائیں گے، اور رب کے دشمن چراگاہوں کی شان کی طرح نیست ہو جائیں گے، دھوئیں کی طرح غائب ہو جائیں گے۔

[21] بےدین قرض لیتا اور اُسے نہیں اُتارتا، لیکن راست باز مہربان ہے اور فیاضی سے دیتا ہے۔

[22] کیونکہ جنہیں رب برکت دے وہ ملک کو میراث میں پائیں گے، لیکن جن پر وہ لعنت بھیجے اُن کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔

[23] اگر کسی کے پاؤں جم جائیں تو یہ رب کی طرف سے ہے۔ ایسے شخص کی راہ کو وہ پسند کرتا ہے۔

[24] اگر گر بھی جائے تو پڑا نہیں رہے گا، کیونکہ رب اُس کے ہاتھ کا سہارا بنا رہے گا۔

[25] مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہو گیا ہوں۔ لیکن مَیں نے کبھی نہیں دیکھا کہ راست باز کو ترک کیا گیا یا اُس کے بچوں کو بھیک مانگنی پڑی۔

[26] وہ ہمیشہ مہربان اور قرض دینے کے لئے تیار ہے۔ اُس کی اولاد برکت کا باعث ہو گی۔

[27] بُرائی سے باز آ کر بھلائی کر۔ تب تُو ہمیشہ کے لئے ملک میں آباد رہے گا،

[28] کیونکہ رب کو انصاف پیارا ہے، اور وہ اپنے ایمان داروں کو کبھی ترک نہیں کرے گا۔ وہ ابد تک محفوظ رہیں گے جبکہ بےدینوں کی اولاد کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔

[29] راست باز ملک کو میراث میں پا کر اُس میں ہمیشہ بسیں گے۔

[30] راست باز کا منہ حکمت بیان کرتا اور اُس کی زبان سے انصاف نکلتا ہے۔

[31] اللہ کی شریعت اُس کے دل میں ہے، اور اُس کے قدم کبھی نہیں ڈگمگائیں گے۔

[32] بےدین راست باز کی تاک میں بیٹھ کر اُسے مار ڈالنے کا موقع ڈھونڈتا ہے۔

[33] لیکن رب راست باز کو اُس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا، وہ اُسے عدالت میں مجرم نہیں ٹھہرنے دے گا۔

[34] رب کے انتظار میں رہ اور اُس کی راہ پر چلتا رہ۔ تب وہ تجھے سرفراز کر کے ملک کا وارث بنائے گا، اور تُو بےدینوں کی ہلاکت دیکھے گا۔

[35] مَیں نے ایک بےدین اور ظالم آدمی کو دیکھا جو پھلتے پھولتے دیودار کے درخت کی طرح آسمان سے باتیں کرنے لگا۔

[36] لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب مَیں دوبارہ وہاں سے گزرا تو وہ تھا نہیں۔ مَیں نے اُس کا کھوج لگایا، لیکن کہیں نہ ملا۔

[37] بےالزام پر دھیان دے اور دیانت دار پر غور کر، کیونکہ آخرکار اُسے امن اور سکون حاصل ہو گا۔

[38] لیکن مجرم مل کر تباہ ہو جائیں گے، اور بےدینوں کو آخرکار رُوئے زمین پر سے مٹایا جائے گا۔

[39] راست بازوں کی نجات رب کی طرف سے ہے، مصیبت کے وقت وہی اُن کا قلعہ ہے۔

[40] رب ہی اُن کی مدد کر کے اُنہیں چھٹکارا دے گا، وہی اُنہیں بےدینوں سے بچا کر نجات دے گا۔ کیونکہ اُنہوں نے اُس میں پناہ لی ہے۔

زبور — Chapters