Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ اے رب، کب تک؟ کیا تُو مجھے ابد تک بھولا رہے گا؟ تُو کب تک اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے رکھے گا؟

[2] میری جان کب تک پریشانیوں میں مبتلا رہے، میرا دل کب تک روز بہ روز دُکھ اُٹھاتا رہے؟ میرا دشمن کب تک مجھ پر غالب رہے گا؟

[3] اے رب میرے خدا، مجھ پر نظر ڈال کر میری سن! میری آنکھوں کو روشن کر، ورنہ مَیں موت کی نیند سو جاؤں گا۔

[4] تب میرا دشمن کہے گا، ”مَیں اُس پر غالب آ گیا ہوں!“ اور میرے مخالف شادیانہ بجائیں گے کہ مَیں ہل گیا ہوں۔

[5] لیکن مَیں تیری شفقت پر بھروسا رکھتا ہوں، میرا دل تیری نجات دیکھ کر خوشی منائے گا۔

[6] مَیں رب کی تمجید میں گیت گاؤں گا، کیونکہ اُس نے مجھ پر احسان کیا ہے۔

زبور — Chapters