[1] زبور۔ سبت کے لئے گیت۔ رب کا شکر کرنا بھلا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ، تیرے نام کی مدح سرائی کرنا بھلا ہے۔
[2] صبح کو تیری شفقت اور رات کو تیری وفا کا اعلان کرنا بھلا ہے،
[3] خاص کر جب ساتھ ساتھ دس تاروں والا ساز، ستار اور سرود بجتے ہیں۔
[4] کیونکہ اے رب، تُو نے مجھے اپنے کاموں سے خوش کیا ہے، اور تیرے ہاتھوں کے کام دیکھ کر مَیں خوشی کے نعرے لگاتا ہوں۔
[5] اے رب، تیرے کام کتنے عظیم، تیرے خیالات کتنے گہرے ہیں۔
[6] نادان یہ نہیں جانتا، احمق کو اِس کی سمجھ نہیں آتی۔
[7] گو بےدین گھاس کی طرح پھوٹ نکلتے اور بدکار سب پھلتے پھولتے ہیں، لیکن آخرکار وہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہو جائیں گے۔
[8] مگر تُو، اے رب، ابد تک سربلند رہے گا۔
[9] کیونکہ تیرے دشمن، اے رب، تیرے دشمن یقیناً تباہ ہو جائیں گے، بدکار سب تتر بتر ہو جائیں گے۔
[10] تُو نے مجھے جنگلی بَیل کی سی طاقت دے کر تازہ تیل سے مسح کیا ہے۔
[11] میری آنکھ اپنے دشمنوں کی شکست سے اور میرے کان اُن شریروں کے انجام سے لطف اندوز ہوئے ہیں جو میرے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
[12] راست باز کھجور کے درخت کی طرح پھلے پھولے گا، وہ لبنان کے دیودار کے درخت کی طرح بڑھے گا۔
[13] جو پودے رب کی سکونت گاہ میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خدا کی بارگاہوں میں پھلیں پھولیں گے۔
[14] وہ بُڑھاپے میں بھی پھل لائیں گے اور تر و تازہ اور ہرے بھرے رہیں گے۔
[15] اُس وقت بھی وہ اعلان کریں گے، ”رب راست ہے۔ وہ میری چٹان ہے، اور اُس میں ناراستی نہیں ہوتی۔“