[1] گیت۔ قورح کی اولاد کا زبور۔ رب عظیم اور بڑی تعریف کے لائق ہے۔ اُس کا مُقدّس پہاڑ ہمارے خدا کے شہر میں ہے۔
[2] کوہِ صیون کی بلندی خوب صورت ہے، پوری دنیا اُس سے خوش ہوتی ہے۔ کوہِ صیون دُورترین شمال کا الٰہی پہاڑ ہی ہے، وہ عظیم بادشاہ کا شہر ہے۔
[3] اللہ اُس کے محلوں میں ہے، وہ اُس کی پناہ گاہ ثابت ہوا ہے۔
[4] کیونکہ دیکھو، بادشاہ جمع ہو کر یروشلم سے لڑنے آئے۔
[5] لیکن اُسے دیکھتے ہی وہ حیران ہوئے، وہ دہشت کھا کر بھاگ گئے۔
[6] وہاں اُن پر کپکپی طاری ہوئی، اور وہ دردِ زہ میں مبتلا عورت کی طرح پیچ و تاب کھانے لگے۔
[7] جس طرح مشرقی آندھی ترسیس کے شاندار جہازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے اُسی طرح تُو نے اُنہیں تباہ کر دیا۔
[8] جو کچھ ہم نے سنا ہے وہ ہمارے دیکھتے دیکھتے رب الافواج ہمارے خدا کے شہر پر صادق آیا ہے، اللہ اُسے ابد تک قائم رکھے گا۔ (سِلاہ)
[9] اے اللہ، ہم نے تیری سکونت گاہ میں تیری شفقت پر غور و خوض کیا ہے۔
[10] اے اللہ، تیرا نام اِس لائق ہے کہ تیری تعریف دنیا کی انتہا تک کی جائے۔ تیرا دہنا ہاتھ راستی سے بھرا رہتا ہے۔
[11] کوہِ صیون شادمان ہو، یہوداہ کی بیٹیاں تیرے منصفانہ فیصلوں کے باعث خوشی منائیں۔
[12] صیون کے ارد گرد گھومو پھرو، اُس کی فصیل کے ساتھ ساتھ چل کر اُس کے بُرج گن لو۔
[13] اُس کی قلعہ بندی پر خوب دھیان دو، اُس کے محلوں کا معائنہ کرو تاکہ آنے والی نسل کو سب کچھ سنا سکو۔
[14] یقیناً اللہ ہمارا خدا ہمیشہ تک ایسا ہی ہے۔ وہ ابد تک ہماری راہنمائی کرے گا۔