Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] آسف کا زبور۔ یقیناً اللہ اسرائیل پر مہربان ہے، اُن پر جن کے دل پاک ہیں۔

[2] لیکن مَیں پھسلنے کو تھا، میرے قدم لغزش کھانے کو تھے۔

[3] کیونکہ شیخی بازوں کو دیکھ کر مَیں بےچین ہو گیا، اِس لئے کہ بےدین اِتنے خوش حال ہیں۔

[4] مرتے وقت اُن کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، اور اُن کے جسم موٹے تازے رہتے ہیں۔

[5] عام لوگوں کے مسائل سے اُن کا واسطہ نہیں پڑتا۔ جس درد و کرب میں دوسرے مبتلا رہتے ہیں اُس سے وہ آزاد ہوتے ہیں۔

[6] اِس لئے اُن کے گلے میں تکبر کا ہار ہے، وہ ظلم کا لباس پہنے پھرتے ہیں۔

[7] چربی کے باعث اُن کی آنکھیں اُبھر آئی ہیں۔ اُن کے دل بےلگام وہموں کی گرفت میں رہتے ہیں۔

[8] وہ مذاق اُڑا کر بُری باتیں کرتے ہیں، اپنے غرور میں ظلم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

[9] وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے منہ سے نکلتا ہے وہ آسمان سے ہے، جو بات ہماری زبان پر آ جاتی ہے وہ پوری زمین کے لئے اہمیت رکھتی ہے۔

[10] چنانچہ عوام اُن کی طرف رجوع ہوتے ہیں، کیونکہ اُن کے ہاں کثرت کا پانی پیا جاتا ہے۔

[11] وہ کہتے ہیں، ”اللہ کو کیا پتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کو علم ہی نہیں۔“

[12] دیکھو، یہی ہے بےدینوں کا حال۔ وہ ہمیشہ سکون سے رہتے، ہمیشہ اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔

[13] یقیناً مَیں نے بےفائدہ اپنا دل پاک رکھا اور عبث اپنے ہاتھ غلط کام کرنے سے باز رکھے۔

[14] کیونکہ دن بھر مَیں درد و کرب میں مبتلا رہتا ہوں، ہر صبح مجھے سزا دی جاتی ہے۔

[15] اگر مَیں کہتا، ”مَیں بھی اُن کی طرح بولوں گا،“ تو تیرے فرزندوں کی نسل سے غداری کرتا۔

[16] مَیں سوچ بچار میں پڑ گیا تاکہ بات سمجھوں، لیکن سوچتے سوچتے تھک گیا، اذیت میں صرف اضافہ ہوا۔

[17] تب مَیں اللہ کے مقدِس میں داخل ہو کر سمجھ گیا کہ اُن کا انجام کیا ہو گا۔

[18] یقیناً تُو اُنہیں پھسلنی جگہ پر رکھے گا، اُنہیں فریب میں پھنسا کر زمین پر پٹخ دے گا۔

[19] اچانک ہی وہ تباہ ہو جائیں گے، دہشت ناک مصیبت میں پھنس کر مکمل طور پر فنا ہو جائیں گے۔

[20] اے رب، جس طرح خواب جاگ اُٹھتے وقت غیرحقیقی ثابت ہوتا ہے اُسی طرح تُو اُٹھتے وقت اُنہیں وہم قرار دے کر حقیر جانے گا۔

[21] جب میرے دل میں تلخی پیدا ہوئی اور میرے باطن میں سخت درد تھا

[22] تو مَیں احمق تھا۔ مَیں کچھ نہیں سمجھتا تھا بلکہ تیرے سامنے مویشی کی مانند تھا۔

[23] توبھی مَیں ہمیشہ تیرے ساتھ لپٹا رہوں گا، کیونکہ تُو میرا دہنا ہاتھ تھامے رکھتا ہے۔

[24] تُو اپنے مشورے سے میری قیادت کر کے آخر میں عزت کے ساتھ میرا خیرمقدم کرے گا۔

[25] جب تُو میرے ساتھ ہے تو مجھے آسمان پر کیا کمی ہو گی؟ جب تُو میرے ساتھ ہے تو مَیں زمین کی کوئی بھی چیز نہیں چاہوں گا۔

[26] خواہ میرا جسم اور میرا دل جواب دے جائیں، لیکن اللہ ہمیشہ تک میرے دل کی چٹان اور میری میراث ہے۔

[27] یقیناً جو تجھ سے دُور ہیں وہ ہلاک ہو جائیں گے، جو تجھ سے بےوفا ہیں اُنہیں تُو تباہ کر دے گا۔

[28] لیکن میرے لئے اللہ کی قربت سب کچھ ہے۔ مَیں نے رب قادرِ مطلق کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے، اور مَیں لوگوں کو تیرے تمام کام سناؤں گا۔

زبور — Chapters