Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ آسمان اللہ کے جلال کا اعلان کرتے ہیں، آسمانی گنبد اُس کے ہاتھوں کا کام بیان کرتا ہے۔

[2] ایک دن دوسرے کو اطلاع دیتا، ایک رات دوسری کو خبر پہنچاتی ہے،

[3] لیکن زبان سے نہیں۔ گو اُن کی آواز سنائی نہیں دیتی،

[4] توبھی اُن کی آواز نکل کر پوری دنیا میں سنائی دیتی، اُن کے الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں اللہ نے آفتاب کے لئے خیمہ لگایا ہے۔

[5] جس طرح دُولھا اپنی خواب گاہ سے نکلتا ہے اُسی طرح سورج نکل کر پہلوان کی طرح اپنی دوڑ دوڑنے پر خوشی مناتا ہے۔

[6] آسمان کے ایک سرے سے چڑھ کر اُس کا چکر دوسرے سرے تک لگتا ہے۔ اُس کی تپتی گرمی سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔

[7] رب کی شریعت کامل ہے، اُس سے جان میں جان آ جاتی ہے۔ رب کے احکام قابلِ اعتماد ہیں، اُن سے سادہ لوح دانش مند ہو جاتا ہے۔

[8] رب کی ہدایات باانصاف ہیں، اُن سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ رب کے احکام پاک ہیں، اُن سے آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں۔

[9] رب کا خوف پاک ہے اور ابد تک قائم رہے گا۔ رب کے فرمان سچے اور سب کے سب راست ہیں۔

[10] وہ سونے بلکہ خالص سونے کے ڈھیر سے زیادہ مرغوب ہیں۔ وہ شہد بلکہ چھتے کے تازہ شہد سے زیادہ میٹھے ہیں۔

[11] اُن سے تیرے خادم کو آگاہ کیا جاتا ہے، اُن پر عمل کرنے سے بڑا اجر ملتا ہے۔

[12] جو خطائیں بےخبری میں سرزد ہوئیں کون اُنہیں جانتا ہے؟ میرے پوشیدہ گناہوں کو معاف کر!

[13] اپنے خادم کو گستاخوں سے محفوظ رکھ تاکہ وہ مجھ پر حکومت نہ کریں۔ تب مَیں بےالزام ہو کر سنگین گناہ سے پاک رہوں گا۔

[14] اے رب، بخش دے کہ میرے منہ کی باتیں اور میرے دل کی سوچ بچار تجھے پسند آئے۔ تُو ہی میری چٹان اور میرا چھڑانے والا ہے۔

زبور — Chapters