Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] میرے بیٹے، میرے الفاظ کی پیروی کر، میرے احکام اپنے اندر محفوظ رکھ۔

[2] میرے احکام کے تابع رہ تو جیتا رہے گا۔ اپنی آنکھ کی پُتلی کی طرح میری ہدایت کی حفاظت کر۔

[3] اُنہیں اپنی اُنگلی کے ساتھ باندھ، اپنے دل کی تختی پر کندہ کر۔

[4] حکمت سے کہہ، ”تُو میری بہن ہے،“ اور سمجھ سے، ”تُو میری قریبی رشتے دار ہے۔“

[5] یہی تجھے زناکار عورت سے محفوظ رکھیں گی، دوسرے کی اُس بیوی سے جو اپنی چِکنی چپڑی باتوں سے تجھے پُھسلانے کی کوشش کرتی ہے۔

[6] ایک دن مَیں نے اپنے گھر کی کھڑکی میں سے باہر جھانکا

[7] تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کچھ سادہ لوح نوجوان کھڑے ہیں۔ اُن میں سے ایک بےعقل جوان نظر آیا۔

[8] وہ گلی میں سے گزر کر زناکار عورت کے کونے کی طرف ٹہلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ اُس راستے پر آ گیا جو عورت کے گھر تک لے جاتا ہے۔

[9] شام کا دُھندلکا تھا، دن ڈھلنے اور رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔

[10] تب ایک عورت کسبی کا لباس پہنے ہوئے چالاکی سے اُس سے ملنے آئی۔

[11] یہ عورت اِتنی بےلگام اور خودسر ہے کہ اُس کے پاؤں اُس کے گھر میں نہیں ٹکتے۔

[12] کبھی وہ گلی میں، کبھی چوکوں میں ہوتی ہے، ہر کونے پر وہ تاک میں بیٹھی رہتی ہے۔

[13] اب اُس نے نوجوان کو پکڑ کر اُسے بوسہ دیا۔ بےحیا نظر اُس پر ڈال کر اُس نے کہا،

[14] ”مجھے سلامتی کی قربانیاں پیش کرنی تھیں، اور آج ہی مَیں نے اپنی مَنتیں پوری کیں۔

[15] اِس لئے مَیں نکل کر تجھ سے ملنے آئی، مَیں نے تیرا پتا کیا اور اب تُو مجھے مل گیا ہے۔

[16] مَیں نے اپنے بستر پر مصر کے رنگین کمبل بچھائے،

[17] اُس پر مُر، عود اور دارچینی کی خوشبو چھڑکی ہے۔

[18] آؤ، ہم صبح تک محبت کا پیالہ تہہ تک پی لیں، ہم عشق بازی سے لطف اندوز ہوں!

[19] کیونکہ میرا خاوند گھر میں نہیں ہے، وہ لمبے سفر کے لئے روانہ ہوا ہے۔

[20] وہ بٹوے میں پیسے ڈال کر چلا گیا ہے اور پورے چاند تک واپس نہیں آئے گا۔“

[21] ایسی باتیں کرتے کرتے عورت نے نوجوان کو ترغیب دے کر اپنی چِکنی چپڑی باتوں سے ورغلایا۔

[22] نوجوان سیدھا اُس کے پیچھے یوں ہو لیا جس طرح بَیل ذبح ہونے کے لئے جاتا یا ہرن اُچھل کر پھندے میں پھنس جاتا ہے۔

[23] کیونکہ ایک وقت آئے گا کہ تیر اُس کا دل چیر ڈالے گا۔ لیکن فی الحال اُس کی حالت اُس چڑیا کی مانند ہے جو اُڑ کر جال میں آ جاتی اور خیال تک نہیں کرتی کہ میری جان خطرے میں ہے۔

[24] چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو، میرے منہ کی باتوں پر دھیان دو!

[25] تیرا دل بھٹک کر اُس طرف رُخ نہ کرے جہاں زناکار عورت پھرتی ہے، ایسا نہ ہو کہ تُو آوارہ ہو کر اُس کی راہوں میں اُلجھ جائے۔

[26] کیونکہ اُن کی تعداد بڑی ہے جنہیں اُس نے گرا کر موت کے گھاٹ اُتارا ہے، اُس نے متعدد لوگوں کو مار ڈالا ہے۔

[27] اُس کا گھر پاتال کا راستہ ہے جو لوگوں کو موت کی کوٹھڑیوں تک پہنچاتا ہے۔

امثال — Chapters