Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] ذیل میں مسّا کے بادشاہ لموایل کی کہاوتیں ہیں۔ اُس کی ماں نے اُسے یہ تعلیم دی،

[2] اے میرے بیٹے، میرے پیٹ کے پھل، جو میری مَنتوں سے پیدا ہوا، مَیں تجھے کیا بتاؤں؟

[3] اپنی پوری طاقت عورتوں پر ضائع نہ کر، اُن پر جو بادشاہوں کی تباہی کا باعث ہیں۔

[4] اے لموایل، بادشاہوں کے لئے مَے پینا مناسب نہیں، حکمرانوں کے لئے شراب کی آرزو رکھنا موزوں نہیں۔

[5] ایسا نہ ہو کہ وہ پی پی کر قوانین بھول جائیں اور تمام مظلوموں کا حق ماریں۔

[6] شراب اُنہیں پلا جو تباہ ہونے والے ہیں، مَے اُنہیں پلا جو غم کھاتے ہیں،

[7] ایسے ہی پی پی کر اپنی غربت اور مصیبت بھول جائیں۔

[8] اپنا منہ اُن کے لئے کھول جو بول نہیں سکتے، اُن کے حق میں جو ضرورت مند ہیں۔

[9] اپنا منہ کھول کر انصاف سے عدالت کر اور مصیبت زدہ اور غریبوں کے حقوق محفوظ رکھ۔

[10] سُگھڑ بیوی کون پا سکتا ہے؟ ایسی عورت موتیوں سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہے۔

[11] اُس پر اُس کے شوہر کو پورا اعتماد ہے، اور وہ نفع سے محروم نہیں رہے گا۔

[12] عمر بھر وہ اُسے نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ برکت کا باعث ہو گی۔

[13] وہ اُون اور سَن چن کر بڑی محنت سے دھاگا بنا لیتی ہے۔

[14] تجارتی جہازوں کی طرح وہ دُوردراز علاقوں سے اپنی روٹی لے آتی ہے۔

[15] وہ پَو پھٹنے سے پہلے ہی جاگ اُٹھتی ہے تاکہ اپنے گھر والوں کے لئے کھانا اور اپنی نوکرانیوں کے لئے اُن کا حصہ تیار کرے۔

[16] سوچ بچار کے بعد وہ کھیت خرید لیتی، اپنے کمائے ہوئے پیسوں سے انگور کا باغ لگا لیتی ہے۔

[17] طاقت سے کمربستہ ہو کر وہ اپنے بازوؤں کو مضبوط کرتی ہے۔

[18] وہ محسوس کرتی ہے، ”میرا کاروبار فائدہ مند ہے،“ اِس لئے اُس کا چراغ رات کے وقت بھی نہیں بجھتا۔

[19] اُس کے ہاتھ ہر وقت اُون اور کتان کاتنے میں مصروف رہتے ہیں۔

[20] وہ اپنی مٹھی مصیبت زدوں اور غریبوں کے لئے کھول کر اُن کی مدد کرتی ہے۔

[21] جب برف پڑے تو اُسے گھر والوں کے بارے میں کوئی ڈر نہیں، کیونکہ سب گرم گرم کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔

[22] اپنے بستر کے لئے وہ اچھے کمبل بنا لیتی، اور خود وہ باریک کتان اور ارغوانی رنگ کے لباس پہنے پھرتی ہے۔

[23] شہر کے دروازے میں بیٹھے ملک کے بزرگ اُس کے شوہر سے خوب واقف ہیں، اور جب کبھی کوئی فیصلہ کرنا ہو تو وہ بھی شوریٰ میں شریک ہوتا ہے۔

[24] بیوی کپڑوں کی سلائی کر کے اُنہیں فروخت کرتی ہے، سوداگر اُس کے کمربند خرید لیتے ہیں۔

[25] وہ طاقت اور وقار سے ملبّس رہتی اور ہنس کر آنے والے دنوں کا سامنا کرتی ہے۔

[26] وہ حکمت سے بات کرتی، اور اُس کی زبان پر شفیق تعلیم رہتی ہے۔

[27] وہ سُستی کی روٹی نہیں کھاتی بلکہ اپنے گھر میں ہر معاملے کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

[28] اُس کے بیٹے کھڑے ہو کر اُسے مبارک کہتے ہیں، اُس کا شوہر بھی اُس کی تعریف کر کے کہتا ہے،

[29] ”بہت سی عورتیں سُگھڑ ثابت ہوئی ہیں، لیکن تُو اُن سب پر سبقت رکھتی ہے!“

[30] دل فریبی، دھوکا اور حُسن پل بھر کا ہے، لیکن جو عورت اللہ کا خوف مانے وہ قابلِ تعریف ہے۔

[31] اُسے اُس کی محنت کا اجر دو! شہر کے دروازوں میں اُس کے کام اُس کی ستائش کریں!

امثال — Chapters