[1] ذیل میں سلیمان کی مزید کہاوتیں درج ہیں جنہیں یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کے لوگوں نے جمع کیا۔
[2] اللہ کا جلال اِس میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاملہ پوشیدہ رکھتا ہے، بادشاہ کا جلال اِس میں کہ وہ معاملے کی تحقیق کرتا ہے۔
[3] جتنا آسمان بلند اور زمین گہری ہے اُتنا ہی بادشاہوں کے دل کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا۔
[4] چاندی سے مَیل دُور کرو تو سنار برتن بنانے میں کامیاب ہو جائے گا،
[5] بےدین کو بادشاہ کے حضور سے دُور کرو تو اُس کا تخت راستی کی بنیاد پر قائم رہے گا۔
[6] بادشاہ کے حضور اپنے آپ پر فخر نہ کر، نہ عزت کی اُس جگہ پر کھڑا ہو جا جو بزرگوں کے لئے مخصوص ہے۔
[7] اِس سے پہلے کہ شرفا کے سامنے ہی تیری بےعزتی ہو جائے بہتر ہے کہ تُو پیچھے کھڑا ہو جا اور بعد میں کوئی تجھ سے کہے، ”یہاں سامنے آ جائیں۔“ جو کچھ تیری آنکھوں نے دیکھا اُسے عدالت میں پیش کرنے میں
[8] جلدبازی نہ کر، کیونکہ تُو کیا کرے گا اگر تیرا پڑوسی تیرے معاملے کو جھٹلا کر تجھے شرمندہ کرے؟
[9] عدالت میں اپنے پڑوسی سے لڑتے وقت وہ بات بیان نہ کر جو کسی نے پوشیدگی میں تیرے سپرد کی،
[10] ایسا نہ ہو کہ سننے والا تیری بےعزتی کرے۔ تب تیری بدنامی کبھی نہیں مٹے گی۔
[11] وقت پر موزوں بات چاندی کے برتن میں سونے کے سیب کی مانند ہے۔
[12] دانش مند کی نصیحت قبول کرنے والے کے لئے سونے کی بالی اور خالص سونے کے گلوبند کی مانند ہے۔
[13] قابلِ اعتماد قاصد بھیجنے والے کے لئے فصل کاٹتے وقت برف کی ٹھنڈک جیسا ہے، اِس طرح وہ اپنے مالک کی جان کو تر و تازہ کر دیتا ہے۔
[14] جو شیخی مار کر تحفوں کا وعدہ کرے لیکن کچھ نہ دے وہ اُن طوفانی بادلوں کی مانند ہے جو برسے بغیر گزر جاتے ہیں۔
[15] حکمران کو تحمل سے قائل کیا جا سکتا، اور نرم زبان ہڈیاں توڑنے کے قابل ہے۔
[16] اگر شہد مل جائے تو ضرورت سے زیادہ مت کھا، حد سے زیادہ کھانے سے تجھے قَے آئے گی۔
[17] اپنے پڑوسی کے گھر میں بار بار جانے سے اپنے قدموں کو روک، ورنہ وہ تنگ آ کر تجھ سے نفرت کرنے لگے گا۔
[18] جو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے وہ ہتھوڑے، تلوار اور تیز تیر جیسا نقصان دہ ہے۔
[19] مصیبت کے وقت بےوفا پر اعتبار کرنا خراب دانت یا ڈگمگاتے پاؤں کی طرح تکلیف دہ ہے۔
[20] دُکھتے دل کے لئے گیت گانا اُتنا ہی غیرموزوں ہے جتنا سردیوں کے موسم میں قمیص اُتارنا یا سوڈے پر سرکہ ڈالنا۔
[21] اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اُسے کھانا کھلا، اگر پیاسا ہو تو پانی پلا۔
[22] کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اُس کے سر پر جلتے ہوئے کوئلوں کا ڈھیر لگائے گا، اور رب تجھے اجر دے گا۔
[23] جس طرح کالے بادل لانے والی ہَوا بارش پیدا کرتی ہے اُسی طرح باتونی کی چپکے سے کی گئی باتوں سے لوگوں کے منہ بگڑ جاتے ہیں۔
[24] جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔
[25] دُوردراز ملک کی خوش خبری پیاسے گلے میں ٹھنڈا پانی ہے۔
[26] جو راست باز بےدین کے سامنے ڈگمگانے لگے، وہ گدلا چشمہ اور آلودہ کنواں ہے۔
[27] زیادہ شہد کھانا اچھا نہیں، اور نہ ہی زیادہ اپنی عزت کی فکر کرنا۔
[28] جو اپنے آپ پر قابو نہ پا سکے وہ اُس شہر کی مانند ہے جس کی فصیل ڈھا دی گئی ہے۔