[1] نرم جواب غصہ ٹھنڈا کرتا، لیکن تُرش بات طیش دلاتی ہے۔
[2] دانش مندوں کی زبان علم و عرفان پھیلاتی ہے جبکہ احمق کا منہ حماقت کا زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے۔
[3] رب کی آنکھیں ہر جگہ موجود ہیں، وہ بُرے اور بھلے سب پر دھیان دیتی ہیں۔
[4] نرم زبان زندگی کا درخت ہے جبکہ فریب دہ زبان شکستہ دل کر دیتی ہے۔
[5] احمق اپنے باپ کی تربیت کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت مانے وہ دانش مند ہے۔
[6] راست باز کے گھر میں بڑا خزانہ ہوتا ہے، لیکن جو کچھ بےدین حاصل کرتا ہے وہ تباہی کا باعث ہے۔
[7] دانش مندوں کے ہونٹ علم و عرفان کا بیج بکھیر دیتے ہیں، لیکن احمقوں کا دل ایسا نہیں کرتا۔
[8] رب بےدینوں کی قربانی سے گھن کھاتا، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والوں کی دعا سے خوش ہوتا ہے۔
[9] رب بےدین کی راہ سے گھن کھاتا، لیکن راستی کا پیچھا کرنے والے سے پیار کرتا ہے۔
[10] جو صحیح راہ کو ترک کرے اُس کی سخت تادیب کی جائے گی، جو نصیحت سے نفرت کرے وہ مر جائے گا۔
[11] پاتال اور عالمِ ارواح رب کو صاف نظر آتے ہیں۔ تو پھر انسانوں کے دل اُسے کیوں نہ صاف دکھائی دیں؟
[12] طعنہ زن کو دوسروں کی نصیحت پسند نہیں آتی، اِس لئے وہ دانش مندوں کے پاس نہیں جاتا۔
[13] جس کا دل خوش ہے اُس کا چہرہ کِھلا رہتا ہے، لیکن جس کا دل پریشان ہے اُس کی روح شکستہ رہتی ہے۔
[14] سمجھ دار کا دل علم و عرفان کی تلاش میں رہتا، لیکن احمق حماقت کی چراگاہ میں چرتا رہتا ہے۔
[15] مصیبت زدہ کے تمام دن بُرے ہیں، لیکن جس کا دل خوش ہے وہ روزانہ جشن مناتا ہے۔
[16] جو غریب رب کا خوف مانتا ہے اُس کا حال اُس کروڑپتی سے کہیں بہتر ہے جو بڑی بےچینی سے زندگی گزارتا ہے۔
[17] جہاں محبت ہے وہاں سبزی کا سالن بہت ہے، جہاں نفرت ہے وہاں موٹے تازے بچھڑے کی ضیافت بھی بےفائدہ ہے۔
[18] غصیلا آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا جبکہ تحمل کرنے والا لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔
[19] کاہل کا راستہ کانٹےدار باڑ کی مانند ہے، لیکن دیانت داروں کی راہ پکی سڑک ہی ہے۔
[20] دانش مند بیٹا اپنے باپ کے لئے خوشی کا باعث ہے، لیکن احمق اپنی ماں کو حقیر جانتا ہے۔
[21] ناسمجھ آدمی حماقت سے لطف اندوز ہوتا، لیکن سمجھ دار آدمی سیدھی راہ پر چلتا ہے۔
[22] جہاں صلاح مشورہ نہیں ہوتا وہاں منصوبے ناکام رہ جاتے ہیں، جہاں بہت سے مشیر ہوتے ہیں وہاں کامیابی ہوتی ہے۔
[23] انسان موزوں جواب دینے سے خوش ہو جاتا ہے، وقت پر مناسب بات کتنی اچھی ہوتی ہے۔
[24] زندگی کی راہ چڑھتی رہتی ہے تاکہ سمجھ دار اُس پر چلتے ہوئے پاتال میں اُترنے سے بچ جائے۔
[25] رب متکبر کا گھر ڈھا دیتا، لیکن بیوہ کی زمین کی حدود محفوظ رکھتا ہے۔
[26] رب بُرے منصوبوں سے گھن کھاتا ہے، اور مہربان الفاظ اُس کے نزدیک پاک ہیں۔
[27] جو ناجائز نفع کمائے وہ اپنے گھر پر آفت لاتا ہے، لیکن جو رشوت سے نفرت رکھے وہ جیتا رہے گا۔
[28] راست باز کا دل سوچ سمجھ کر جواب دیتا ہے، لیکن بےدین کا منہ زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے جس سے بُری باتیں نکلتی رہتی ہیں۔
[29] رب بےدینوں سے دُور رہتا، لیکن راست باز کی دعا سنتا ہے۔
[30] چمکتی آنکھیں دل کو خوشی دلاتی ہیں، اچھی خبر پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتی ہے۔
[31] جو زندگی بخش نصیحت پر دھیان دے وہ دانش مندوں کے درمیان ہی سکونت کرے گا۔
[32] جو تربیت کی پروا نہ کرے وہ اپنے آپ کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت پر دھیان دے اُس کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔
[33] رب کا خوف ہی وہ تربیت ہے جس سے انسان حکمت سیکھتا ہے۔ پہلے فروتنی اپنا لے، کیونکہ یہی عزت پانے کا پہلا قدم ہے۔