[1] میرے بیٹے، میری حکمت پر دھیان دے، میری سمجھ کی باتوں پر کان دھر۔
[2] پھر تُو تمیز کا دامن تھامے رہے گا، اور تیرے ہونٹ علم و عرفان محفوظ رکھیں گے۔
[3] کیونکہ زناکار عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اُس کی باتیں تیل کی طرح چِکنی چپڑی ہوتی ہیں۔
[4] لیکن انجام میں وہ زہر جیسی کڑوی اور دو دھاری تلوار جیسی تیز ثابت ہوتی ہے۔
[5] اُس کے پاؤں موت کی طرف اُترتے، اُس کے قدم پاتال کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔
[6] اُس کے راستے کبھی اِدھر کبھی اُدھر پھرتے ہیں تاکہ تُو زندگی کی راہ پر توجہ نہ دے اور اُس کی آوارگی کو جان نہ لے۔
[7] چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو اور میرے منہ کی باتوں سے دُور نہ ہو جاؤ۔
[8] اپنے راستے اُس سے دُور رکھ، اُس کے گھر کے دروازے کے قریب بھی نہ جا۔
[9] ایسا نہ ہو کہ تُو اپنی طاقت کسی اَور کے لئے صَرف کرے اور اپنے سال ظالم کے لئے ضائع کرے۔
[10] ایسا نہ ہو کہ پردیسی تیری ملکیت سے سیر ہو جائیں، کہ جو کچھ تُو نے محنت مشقت سے حاصل کیا وہ کسی اَور کے گھر میں آئے۔
[11] تب آخرکار تیرا بدن اور گوشت گھل جائیں گے، اور تُو آہیں بھر بھر کر
[12] کہے گا، ”ہائے، مَیں نے کیوں تربیت سے نفرت کی، میرے دل نے کیوں سرزنش کو حقیر جانا؟
[13] ہدایت کرنے والوں کی مَیں نے نہ سنی، اپنے اُستادوں کی باتوں پر کان نہ دھرا۔
[14] جماعت کے درمیان ہی رہتے ہوئے مجھ پر ایسی آفت آئی کہ مَیں تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا ہوں۔“
[15] اپنے ہی حوض کا پانی اور اپنے ہی کنوئیں سے پھوٹنے والا پانی پی لے۔
[16] کیا مناسب ہے کہ تیرے چشمے گلیوں میں اور تیری ندیاں چوکوں میں بہہ نکلیں؟
[17] جو پانی تیرا اپنا ہے وہ تجھ تک محدود رہے، اجنبی اُس میں شریک نہ ہو جائے۔
[18] تیرا چشمہ مبارک ہو۔ ہاں، اپنی بیوی سے خوش رہ۔
[19] وہی تیری من موہن ہرنی اور دل رُبا غزال ہے۔ اُسی کا پیار تجھے تر و تازہ کرے، اُسی کی محبت تجھے ہمیشہ مست رکھے۔
[20] میرے بیٹے، تُو اجنبی عورت سے کیوں مست ہو جائے، کسی دوسرے کی بیوی سے کیوں لپٹ جائے؟
[21] خیال رکھ، انسان کی راہیں رب کو صاف دکھائی دیتی ہیں، جہاں بھی وہ چلے اُس پر وہ توجہ دیتا ہے۔
[22] بےدین کی اپنی ہی حرکتیں اُسے پھنسا دیتی ہیں، وہ اپنے ہی گناہ کے رسّوں میں جکڑا رہتا ہے۔
[23] وہ تربیت کی کمی کے سبب سے ہلاک ہو جائے گا، اپنی بڑی حماقت کے باعث ڈگمگاتے ہوئے اپنے انجام کو پہنچے گا۔