[1] نیک نام بڑی دولت سے قیمتی، اور منظورِ نظر ہونا سونے چاندی سے بہتر ہے۔
[2] امیر اور غریب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، رب اُن سب کا خالق ہے۔
[3] ذہین آدمی خطرہ پہلے سے بھانپ کر چھپ جاتا ہے، جبکہ سادہ لوح آگے بڑھ کر اُس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔
[4] فروتنی اور رب کا خوف ماننے کا پھل دولت، احترام اور زندگی ہے۔
[5] بےدین کی راہ میں کانٹے اور پھندے ہوتے ہیں۔ جو اپنی جان محفوظ رکھنا چاہے وہ اُن سے دُور رہتا ہے۔
[6] چھوٹے بچے کی صحیح راہ پر چلنے کی تربیت کر تو وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں ہٹے گا۔
[7] امیر غریب پر حکومت کرتا، اور قرض دار قرض خواہ کا غلام ہوتا ہے۔
[8] جو ناانصافی کا بیج بوئے وہ آفت کی فصل کاٹے گا، تب اُس کی زیادتی کی لاٹھی ٹوٹ جائے گی۔
[9] فیاض دل کو برکت ملے گی، کیونکہ وہ پست حال کو اپنے کھانے میں شریک کرتا ہے۔
[10] طعنہ زن کو بھگا دے تو لڑائی جھگڑا گھر سے نکل جائے گا، تُو تُو مَیں مَیں اور ایک دوسرے کی بےعزتی کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
[11] جو دل کی پاکیزگی کو پیار کرے اور مہربان زبان کا مالک ہو وہ بادشاہ کا دوست بنے گا۔
[12] رب کی آنکھیں علم و عرفان کی دیکھ بھال کرتی ہیں، لیکن وہ بےوفا کی باتوں کو تباہ ہونے دیتا ہے۔
[13] کاہل کہتا ہے، ”گلی میں شیر ہے، اگر باہر جاؤں تو مجھے کسی چوک میں پھاڑ کھائے گا۔“
[14] زناکار عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے۔ جس سے رب ناراض ہو وہ اُس میں گر جاتا ہے۔
[15] بچے کے دل میں حماقت ٹکتی ہے، لیکن تربیت کی چھڑی اُسے بھگا دیتی ہے۔
[16] ایک پست حال پر ظلم کرتا ہے تاکہ دولت پائے، دوسرا امیر کو تحفے دیتا ہے لیکن غریب ہو جاتا ہے۔
[17] کان لگا کر داناؤں کی باتوں پر دھیان دے، دل سے میری تعلیم اپنا لے!
[18] کیونکہ اچھا ہے کہ تُو اُنہیں اپنے دل میں محفوظ رکھے، وہ سب تیرے ہونٹوں پر مستعد رہیں۔
[19] آج مَیں تجھے، ہاں تجھے ہی تعلیم دے رہا ہوں تاکہ تیرا بھروسا رب پر رہے۔
[20] مَیں نے تیرے لئے 30 کہاوتیں قلم بند کی ہیں، ایسی باتیں جو مشوروں اور علم سے بھری ہوئی ہیں۔
[21] کیونکہ مَیں تجھے سچائی کی قابلِ اعتماد باتیں سکھانا چاہتا ہوں تاکہ تُو اُنہیں قابلِ اعتماد جواب دے سکے جنہوں نے تجھے بھیجا ہے۔
[22] پست حال کو اِس لئے نہ لُوٹ کہ وہ پست حال ہے، مصیبت زدہ کو عدالت میں مت کچلنا۔
[23] کیونکہ رب خود اُن کا دفاع کر کے اُنہیں لُوٹ لے گا جو اُنہیں لُوٹ رہے ہیں۔
[24] غصیلے شخص کا دوست نہ بن، نہ اُس سے زیادہ تعلق رکھ جو جلدی سے آگ بگولا ہو جاتا ہے۔
[25] ایسا نہ ہو کہ تُو اُس کا چال چلن اپنا کر اپنی جان کے لئے پھندا لگائے۔
[26] کبھی ہاتھ ملا کر وعدہ نہ کر کہ مَیں دوسرے کے قرضے کا ضامن ہوں گا۔
[27] قرض دار کے پیسے واپس نہ کرنے پر اگر تُو بھی پیسے ادا نہ کر سکے تو تیری چارپائی بھی تیرے نیچے سے چھین لی جائے گی۔
[28] زمین کی جو حدود تیرے باپ دادا نے مقرر کیں اُنہیں آگے پیچھے مت کرنا۔
[29] کیا تجھے ایسا آدمی نظر آتا ہے جو اپنے کام میں ماہر ہے؟ وہ نچلے طبقے کے لوگوں کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ بادشاہوں کی۔