Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] رب غلط ترازو سے گھن کھاتا ہے، وہ صحیح ترازو ہی سے خوش ہوتا ہے۔

[2] جہاں تکبر ہے وہاں بدنامی بھی قریب ہی رہتی ہے، لیکن جو حلیم ہے اُس کے دامن میں حکمت رہتی ہے۔

[3] سیدھی راہ پر چلنے والوں کی دیانت داری اُن کی راہنمائی کرتی جبکہ بےوفاؤں کی نمک حرامی اُنہیں تباہ کرتی ہے۔

[4] غضب کے دن دولت کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ راست بازی لوگوں کی جان کو چھڑاتی ہے۔

[5] بےالزام کی راست بازی اُس کا راستہ ہموار بنا دیتی ہے جبکہ بےدین کی بُری حرکتیں اُسے گرا دیتی ہیں۔

[6] سیدھی راہ پر چلنے والوں کی راست بازی اُنہیں چھڑا دیتی جبکہ بےوفاؤں کا لالچ اُنہیں پھنسا دیتا ہے۔

[7] دم توڑتے وقت بےدین کی ساری اُمید جاتی رہتی ہے، جس دولت کی توقع اُس نے کی وہ جاتی رہتی ہے۔

[8] راست باز کی جان مصیبت سے چھوٹ جاتی ہے، اور اُس کی جگہ بےدین پھنس جاتا ہے۔

[9] کافر اپنے منہ سے اپنے پڑوسی کو تباہ کرتا ہے، لیکن راست بازوں کا علم اُنہیں چھڑاتا ہے۔

[10] جب راست باز کامیاب ہوں تو پورا شہر جشن مناتا ہے، جب بےدین ہلاک ہوں تو خوشی کے نعرے بلند ہو جاتے ہیں۔

[11] سیدھی راہ پر چلنے والوں کی برکت سے شہر ترقی کرتا ہے، لیکن بےدین کے منہ سے وہ مسمار ہو جاتا ہے۔

[12] ناسمجھ آدمی اپنے پڑوسی کو حقیر جانتا ہے جبکہ سمجھ دار آدمی خاموش رہتا ہے۔

[13] تہمت لگانے والا دوسروں کے راز فاش کرتا ہے، لیکن قابلِ اعتماد شخص وہ بھید پوشیدہ رکھتا ہے جو اُس کے سپرد کیا گیا ہو۔

[14] جہاں قیادت کی کمی ہے وہاں قوم کا تنزل یقینی ہے، جہاں مشیروں کی کثرت ہے وہاں قوم فتح یاب رہے گی۔

[15] جو اجنبی کا ضامن ہو جائے اُسے یقیناً نقصان پہنچے گا، جو ضامن بننے سے انکار کرے وہ محفوظ رہے گا۔

[16] نیک عورت عزت سے اور ظالم آدمی دولت سے لپٹے رہتے ہیں۔

[17] شفیق کا اچھا سلوک اُسی کے لئے فائدہ مند ہے جبکہ ظالم کا بُرا سلوک اُسی کے لئے نقصان دہ ہے۔

[18] جو کچھ بےدین کماتا ہے وہ فریب دہ ہے، لیکن جو راستی کا بیج بوئے اُس کا اجر یقینی ہے۔

[19] راست بازی کا پھل زندگی ہے جبکہ بُرائی کے پیچھے بھاگنے والے کا انجام موت ہے۔

[20] رب کج دلوں سے گھن کھاتا ہے، وہ بےالزام راہ پر چلنے والوں ہی سے خوش ہوتا ہے۔

[21] یقین کرو، بدکار سزا سے نہیں بچے گا جبکہ راست بازوں کے فرزند چھوٹ جائیں گے۔

[22] جس طرح سؤر کی تھوتھنی میں سونے کا چھلا کھٹکتا ہے اُسی طرح خوب صورت عورت کی بےتمیزی کھٹکتی ہے۔

[23] اللہ راست بازوں کی آرزو اچھی چیزوں سے پوری کرتا ہے، لیکن اُس کا غضب بےدینوں کی اُمید پر نازل ہوتا ہے۔

[24] ایک آدمی کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، گو وہ فیاض دلی سے تقسیم کرتا ہے۔ دوسرے کی غربت میں اضافہ ہوتا ہے، گو وہ حد سے زیادہ کنجوس ہے۔

[25] فیاض دل خوش حال رہے گا، جو دوسروں کو تر و تازہ کرے وہ خود تازہ دم رہے گا۔

[26] لوگ گندم کے ذخیرہ اندوز پر لعنت بھیجتے ہیں، لیکن جو گندم کو بازار میں آنے دیتا ہے اُس کے سر پر برکت آتی ہے۔

[27] جو بھلائی کی تلاش میں رہے وہ اللہ کی منظوری چاہتا ہے، لیکن جو بُرائی کی تلاش میں رہے وہ خود بُرائی کے پھندے میں پھنس جائے گا۔

[28] جو اپنی دولت پر بھروسا رکھے وہ گر جائے گا، لیکن راست باز ہرے بھرے پتوں کی طرح پھلیں پھولیں گے۔

[29] جو اپنے گھر میں گڑبڑ پیدا کرے وہ میراث میں ہَوا ہی پائے گا۔ احمق دانش مند کا نوکر بنے گا۔

[30] راست باز کا پھل زندگی کا درخت ہے، اور دانش مند آدمی جانیں جیتتا ہے۔

[31] راست باز کو زمین پر ہی اجر ملتا ہے۔ تو پھر بےدین اور گناہ گار سزا کیوں نہ پائیں؟

امثال — Chapters