[1] میرے بیٹے، میری ہدایت مت بھولنا۔ میرے احکام تیرے دل میں محفوظ رہیں۔
[2] کیونکہ اِن ہی سے تیری زندگی کے دنوں اور سالوں میں اضافہ ہو گا اور تیری خوش حالی بڑھے گی۔
[3] شفقت اور وفا تیرا دامن نہ چھوڑیں۔ اُنہیں اپنے گلے سے باندھنا، اپنے دل کی تختی پر کندہ کرنا۔
[4] تب تجھے اللہ اور انسان کے سامنے مہربانی اور قبولیت حاصل ہو گی۔
[5] پورے دل سے رب پر بھروسا رکھ، اور اپنی عقل پر تکیہ نہ کر۔
[6] جہاں بھی تُو چلے صرف اُسی کو جان لے، پھر وہ خود تیری راہوں کو ہموار کرے گا۔
[7] اپنے آپ کو دانش مند مت سمجھنا بلکہ رب کا خوف مان کر بُرائی سے دُور رہ۔
[8] اِس سے تیرا بدن صحت پائے گا اور تیری ہڈیاں تر و تازہ ہو جائیں گی۔
[9] اپنی ملکیت اور اپنی تمام پیداوار کے پہلے پھل سے رب کا احترام کر،
[10] پھر تیرے گودام اناج سے بھر جائیں گے اور تیرے برتن مَے سے چھلک اُٹھیں گے۔
[11] میرے بیٹے، رب کی تربیت کو رد نہ کر، جب وہ تجھے ڈانٹے تو رنجیدہ نہ ہو۔
[12] کیونکہ جو رب کو پیارا ہے اُس کی وہ تادیب کرتا ہے، جس طرح باپ اُس بیٹے کو تنبیہ کرتا ہے جو اُسے پسند ہے۔
[13] مبارک ہے وہ جو حکمت پاتا ہے، جسے سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
[14] کیونکہ حکمت چاندی سے کہیں زیادہ سودمند ہے، اور اُس سے سونے سے کہیں زیادہ قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔
[15] حکمت موتیوں سے زیادہ نفیس ہے، تیرے تمام خزانے اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
[16] اُس کے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی اور بائیں ہاتھ میں دولت اور عزت ہے۔
[17] اُس کی راہیں خوش گوار، اُس کے تمام راستے پُرامن ہیں۔
[18] جو اُس کا دامن پکڑ لے اُس کے لئے وہ زندگی کا درخت ہے۔ مبارک ہے وہ جو اُس سے لپٹا رہے۔
[19] رب نے حکمت کے وسیلے سے ہی زمین کی بنیاد رکھی، سمجھ کے ذریعے ہی آسمان کو مضبوطی سے لگایا۔
[20] اُس کے عرفان سے ہی گہرائیوں کا پانی پھوٹ نکلا اور آسمان سے شبنم ٹپک کر زمین پر پڑتی ہے۔
[21] میرے بیٹے، دانائی اور تمیز اپنے پاس محفوظ رکھ اور اُنہیں اپنی نظر سے دُور نہ ہونے دے۔
[22] اُن سے تیری جان تر و تازہ اور تیرا گلا آراستہ رہے گا۔
[23] تب تُو چلتے وقت محفوظ رہے گا، اور تیرا پاؤں ٹھوکر نہیں کھائے گا۔
[24] تُو پاؤں پھیلا کر سو سکے گا، کوئی صدمہ تجھے نہیں پہنچے گا بلکہ تُو لیٹ کر گہری نیند سوئے گا۔
[25] ناگہاں آفت سے مت ڈرنا، نہ اُس تباہی سے جو بےدین پر غالب آتی ہے،
[26] کیونکہ رب پر تیرا اعتماد ہے، وہی تیرے پاؤں کو پھنس جانے سے محفوظ رکھے گا۔
[27] اگر کوئی ضرورت مند ہو اور تُو اُس کی مدد کر سکے تو اُس کے ساتھ بھلائی کرنے سے انکار نہ کر۔
[28] اگر تُو آج کچھ دے سکے تو اپنے پڑوسی سے مت کہنا، ”کل آنا تو مَیں آپ کو کچھ دے دوں گا۔“
[29] جو پڑوسی بےفکر تیرے ساتھ رہتا ہے اُس کے خلاف بُرے منصوبے مت باندھنا۔
[30] جس نے تجھے نقصان نہیں پہنچایا عدالت میں اُس پر بےبنیاد الزام نہ لگانا۔
[31] نہ ظالم سے حسد کر، نہ اُس کی کوئی راہ اختیار کر۔
[32] کیونکہ بُری راہ پر چلنے والے سے رب گھن کھاتا ہے جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کو وہ اپنے رازوں سے آگاہ کرتا ہے۔
[33] بےدین کے گھر پر رب کی لعنت آتی جبکہ راست باز کے گھر کو وہ برکت دیتا ہے۔
[34] مذاق اُڑانے والوں کا وہ مذاق اُڑاتا، لیکن فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔
[35] دانش مند میراث میں عزت پائیں گے جبکہ احمق کے نصیب میں شرمندگی ہو گی۔