Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] ذیل میں سلیمان کی امثال قلم بند ہیں۔ دانش مند بیٹا اپنے باپ کو خوشی دلاتا جبکہ احمق بیٹا اپنی ماں کو دُکھ پہنچاتا ہے۔

[2] خزانوں کا کوئی فائدہ نہیں اگر وہ بےدین طریقوں سے جمع ہو گئے ہوں، لیکن راست بازی موت سے بچائے رکھتی ہے۔

[3] رب راست باز کو بھوکے مرنے نہیں دیتا، لیکن بےدینوں کا لالچ روک دیتا ہے۔

[4] ڈھیلے ہاتھ غربت اور محنتی ہاتھ دولت کی طرف لے جاتے ہیں۔

[5] جو گرمیوں میں فصل جمع کرتا ہے وہ دانش مند بیٹا ہے جبکہ جو فصل کی کٹائی کے وقت سویا رہتا ہے وہ والدین کے لئے شرم کا باعث ہے۔

[6] راست باز کا سر برکت کے تاج سے آراستہ رہتا ہے جبکہ بےدینوں کے منہ پر ظلم کا پردہ پڑا رہتا ہے۔

[7] لوگ راست باز کو یاد کر کے اُسے مبارک کہتے ہیں، لیکن بےدین کا نام سڑ کر مٹ جائے گا۔

[8] جو دل سے دانش مند ہے وہ احکام قبول کرتا ہے، لیکن بکواسی تباہ ہو جائے گا۔

[9] جس کا چال چلن بےالزام ہے وہ سکون سے زندگی گزارتا ہے، لیکن جو ٹیڑھا راستہ اختیار کرے اُسے پکڑا جائے گا۔

[10] آنکھ مارنے والا دُکھ پہنچاتا ہے، اور بکواسی تباہ ہو جائے گا۔

[11] راست باز کا منہ زندگی کا سرچشمہ ہے، لیکن بےدین کے منہ پر ظلم کا پردہ پڑا رہتا ہے۔

[12] نفرت جھگڑے چھیڑتی رہتی جبکہ محبت تمام خطاؤں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

[13] سمجھ دار کے ہونٹوں پر حکمت پائی جاتی ہے، لیکن ناسمجھ صرف ڈنڈے کا پیغام سمجھتا ہے۔

[14] دانش مند اپنا علم محفوظ رکھتے ہیں، لیکن احمق کا منہ جلد ہی تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

[15] امیر کی دولت قلعہ بند شہر ہے جس میں وہ محفوظ ہے جبکہ غریب کی غربت اُس کی تباہی کا باعث ہے۔

[16] جو کچھ راست باز کما لیتا ہے وہ زندگی کا باعث ہے، لیکن بےدین اپنی روزی گناہ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔

[17] جو تربیت قبول کرے وہ دوسروں کو زندگی کی راہ پر لاتا ہے، جو نصیحت نظرانداز کرے وہ دوسروں کو صحیح راہ سے دُور لے جاتا ہے۔

[18] جو اپنی نفرت چھپائے رکھے وہ جھوٹ بولتا ہے، جو دوسروں کے بارے میں غلط خبریں پھیلائے وہ احمق ہے۔

[19] جہاں بہت باتیں کی جاتی ہیں وہاں گناہ بھی آ موجود ہوتا ہے، جو اپنی زبان کو قابو میں رکھے وہ دانش مند ہے۔

[20] راست باز کی زبان عمدہ چاندی ہے جبکہ بےدین کے دل کی کوئی قدر نہیں۔

[21] راست باز کی زبان بہتوں کی پرورش کرتی ہے، لیکن احمق اپنی بےعقلی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔

[22] رب کی برکت دولت کا باعث ہے، ہماری اپنی محنت مشقت اِس میں اضافہ نہیں کرتی۔

[23] احمق غلط کام سے اپنا دل بہلاتا، لیکن سمجھ دار حکمت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

[24] جس چیز سے بےدین دہشت کھاتا ہے وہی اُس پر آئے گی، لیکن راست باز کی آرزو پوری ہو جائے گی۔

[25] جب طوفان آتے ہیں تو بےدین کا نام و نشان مٹ جاتا جبکہ راست باز ہمیشہ تک قائم رہتا ہے۔

[26] جس طرح دانت سرکے سے اور آنکھیں دھوئیں سے تنگ آ جاتی ہیں اُسی طرح وہ تنگ آ جاتا ہے جو سُست آدمی سے کام کرواتا ہے۔

[27] جو رب کا خوف مانے اُس کی زندگی کے دنوں میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ بےدین کی زندگی وقت سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

[28] راست باز آخرکار خوشی منائیں گے، کیونکہ اُن کی اُمید بر آئے گی۔ لیکن بےدینوں کی اُمید جاتی رہے گی۔

[29] رب کی راہ بےالزام شخص کے لئے پناہ گاہ، لیکن بدکار کے لئے تباہی کا باعث ہے۔

[30] راست باز کبھی ڈانواں ڈول نہیں ہو گا، لیکن بےدین ملک میں آباد نہیں رہیں گے۔

[31] راست باز کا منہ حکمت کا پھل لاتا رہتا ہے، لیکن کج گو زبان کو کاٹ ڈالا جائے گا۔

[32] راست باز کے ہونٹ جانتے ہیں کہ اللہ کو کیا پسند ہے، لیکن بےدین کا منہ ٹیڑھی باتیں ہی جانتا ہے۔

امثال — Chapters