[1] جسے علم و عرفان پیارا ہے اُسے تربیت بھی پیاری ہے، جسے نصیحت سے نفرت ہے وہ بےعقل ہے۔
[2] رب اچھے آدمی سے خوش ہوتا ہے جبکہ وہ سازش کرنے والے کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
[3] انسان بےدینی کی بنیاد پر قائم نہیں رہ سکتا جبکہ راست باز کی جڑیں اُکھاڑی نہیں جا سکتیں۔
[4] سُگھڑ بیوی اپنے شوہر کا تاج ہے، لیکن جو شوہر کی رُسوائی کا باعث ہے وہ اُس کی ہڈیوں میں سڑاہٹ کی مانند ہے۔
[5] راست باز کے خیالات منصفانہ ہیں جبکہ بےدینوں کے منصوبے فریب دہ ہیں۔
[6] بےدینوں کے الفاظ لوگوں کو قتل کرنے کی تاک میں رہتے ہیں جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کی باتیں لوگوں کو چھڑا لیتی ہیں۔
[7] بےدینوں کو خاک میں یوں ملایا جاتا ہے کہ اُن کا نام و نشان تک نہیں رہتا، لیکن راست باز کا گھر قائم رہتا ہے۔
[8] کسی کی جتنی عقل و سمجھ ہے اُتنا ہی لوگ اُس کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جس کے ذہن میں فتور ہے اُسے حقیر جانا جاتا ہے۔
[9] نچلے طبقے کا جو آدمی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے وہ اُس آدمی سے کہیں بہتر ہے جو نخرہ بگھارتا ہے گو اُس کے پاس روٹی بھی نہیں ہے۔
[10] راست باز اپنے مویشی کا بھی خیال کرتا ہے جبکہ بےدین کا دل ظالم ہی ظالم ہے۔
[11] جو اپنی زمین کی کھیتی باڑی کرے اُس کے پاس کثرت کا کھانا ہو گا، لیکن جو فضول چیزوں کے پیچھے پڑ جائے وہ ناسمجھ ہے۔
[12] بےدین دوسروں کو جال میں پھنسانے سے اپنا دل بہلاتا ہے، لیکن راست باز کی جڑ پھل دار ہوتی ہے۔
[13] شریر اپنی غلط باتوں کے جال میں اُلجھ جاتا جبکہ راست باز مصیبت سے بچ جاتا ہے۔
[14] انسان اپنے منہ کے پھل سے خوب سیر ہو جاتا ہے، اور جو کام اُس کے ہاتھوں نے کیا اُس کا اجر اُسے ضرور ملے گا۔
[15] احمق کی نظر میں اُس کی اپنی راہ ٹھیک ہے، لیکن دانش مند دوسروں کے مشورے پر دھیان دیتا ہے۔
[16] احمق ایک دم اپنی ناراضی کا اظہار کرتا ہے، لیکن دانا اپنی بدنامی چھپائے رکھتا ہے۔
[17] دیانت دار گواہ کھلے طور پر سچائی بیان کرتا ہے جبکہ جھوٹا گواہ دھوکا ہی دھوکا پیش کرتا ہے۔
[18] گپیں ہانکنے والے کی باتیں تلوار کی طرح زخمی کر دیتی ہیں جبکہ دانش مند کی زبان شفا دیتی ہے۔
[19] سچے ہونٹ ہمیشہ تک قائم رہتے ہیں جبکہ جھوٹی زبان ایک ہی لمحے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔
[20] بُرے منصوبے باندھنے والے کا دل دھوکے سے بھرا رہتا جبکہ سلامتی کے مشورے دینے والے کا دل خوشی سے چھلکتا ہے۔
[21] کوئی بھی آفت راست باز پر نہیں آئے گی جبکہ دُکھ تکلیف بےدینوں کا دامن کبھی نہیں چھوڑے گی۔
[22] رب فریب دہ ہونٹوں سے گھن کھاتا ہے، لیکن جو وفاداری سے زندگی گزارتے ہیں اُن سے وہ خوش ہوتا ہے۔
[23] سمجھ دار اپنا علم چھپائے رکھتا جبکہ احمق اپنے دل کی حماقت بلند آواز سے سب کو پیش کرتا ہے۔
[24] جس کے ہاتھ محنتی ہیں وہ حکومت کرے گا، لیکن جس کے ہاتھ ڈھیلے ہیں اُسے بیگار میں کام کرنا پڑے گا۔
[25] جس کے دل میں پریشانی ہے وہ دبا رہتا ہے، لیکن کوئی بھی اچھی بات اُسے خوشی دلاتی ہے۔
[26] راست باز اپنی چراگاہ معلوم کر لیتا ہے، لیکن بےدینوں کی راہ اُنہیں آوارہ پھرنے دیتی ہے۔
[27] ڈھیلا آدمی اپنا شکار نہیں پکڑ سکتا جبکہ محنتی شخص کثرت کا مال حاصل کر لیتا ہے۔
[28] راستی کی راہ میں زندگی ہے، لیکن غلط راہ موت تک پہنچاتی ہے۔