Skip to content
Opens in a new window
Listen to this chapter

[1] بادشاہ کا دل رب کے ہاتھ میں نہر کی مانند ہے۔ وہ جدھر چاہے اُس کا رُخ پھیر دیتا ہے۔

[2] ہر آدمی کی راہ اُس کی اپنی نظر میں ٹھیک لگتی ہے، لیکن رب ہی دلوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔

[3] راست بازی اور انصاف کرنا رب کو ذبح کی قربانیوں سے کہیں زیادہ پسند ہے۔

[4] مغرور آنکھیں اور متکبر دل جو بےدینوں کا چراغ ہیں گناہ ہیں۔

[5] محنتی شخص کے منصوبے نفع کا باعث ہیں، لیکن جلدبازی غربت تک پہنچا دیتی ہے۔

[6] فریب دہ زبان سے جمع کیا ہوا خزانہ بکھر جانے والا دھواں اور مہلک پھندا ہے۔

[7] بےدینوں کا ظلم ہی اُنہیں گھسیٹ کر لے جاتا ہے، کیونکہ وہ انصاف کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

[8] قصوروار کی راہ پیچ دار ہے جبکہ پاک شخص سیدھی راہ پر چلتا ہے۔

[9] جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔

[10] بےدین غلط کام کرنے کے لالچ میں رہتا ہے اور اپنے کسی بھی پڑوسی پر ترس نہیں کھاتا۔

[11] طعنہ زن پر جرمانہ لگا تو سادہ لوح سبق سیکھے گا، دانش مند کو تعلیم دے تو اُس کے علم میں اضافہ ہو گا۔

[12] اللہ جو راست ہے بےدین کے گھر کو دھیان میں رکھتا ہے، وہی بےدین کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

[13] جو کان میں اُنگلی ڈال کر غریب کی مدد کے لئے چیخیں نہیں سنتا وہ بھی ایک دن چیخیں مارے گا، اور اُس کی بھی سنی نہیں جائے گی۔

[14] پوشیدگی میں صلہ دینے سے دوسرے کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا، کسی کی جیب گرم کرنے سے اُس کا سخت طیش دُور ہو جاتا ہے۔

[15] جب انصاف کیا جائے تو راست باز خوش ہو جاتا، لیکن بدکار دہشت کھانے لگتا ہے۔

[16] جو سمجھ کی راہ سے بھٹک جائے وہ ایک دن مُردوں کی جماعت میں آرام کرے گا۔

[17] جو عیش و عشرت کی زندگی پسند کرے وہ غریب ہو جائے گا، جسے مَے اور تیل پیارا ہو وہ امیر نہیں ہو جائے گا۔

[18] جب راست باز کا فدیہ دینا ہے تو بےدین کو دیا جائے گا، اور دیانت دار کی جگہ بےوفا کو دیا جائے گا۔

[19] جھگڑالو اور تنگ کرنے والی بیوی کے ساتھ بسنے کی نسبت ریگستان میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔

[20] دانش مند کے گھر میں عمدہ خزانہ اور تیل ہوتا ہے، لیکن احمق اپنا سارا مال ہڑپ کر لیتا ہے۔

[21] جو انصاف اور شفقت کا تعاقب کرتا رہے وہ زندگی، راستی اور عزت پائے گا۔

[22] دانش مند آدمی طاقت ور فوجیوں کے شہر پر حملہ کر کے وہ قلعہ بندی ڈھا دیتا ہے جس پر اُن کا پورا اعتماد تھا۔

[23] جو اپنے منہ اور زبان کی پہرا داری کرے وہ اپنی جان کو مصیبت سے بچائے رکھتا ہے۔

[24] مغرور اور گھمنڈی کا نام ’طعنہ زن‘ ہے، ہر کام وہ بےحد تکبر کے ساتھ کرتا ہے۔

[25] کاہل کا لالچ اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیتا ہے، کیونکہ اُس کے ہاتھ کام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

[26] لالچی پورا دن لالچ کرتا رہتا ہے، لیکن راست باز فیاض دلی سے دیتا ہے۔

[27] بےدینوں کی قربانی قابلِ گھن ہے، خاص کر جب اُسے بُرے مقصد سے پیش کیا جائے۔

[28] جھوٹا گواہ تباہ ہو جائے گا، لیکن جو دوسرے کی دھیان سے سنے اُس کی بات ہمیشہ تک قائم رہے گی۔

[29] بےدین آدمی گستاخ انداز سے پیش آتا ہے، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والا سوچ سمجھ کر اپنی راہ پر چلتا ہے۔

[30] کسی کی بھی حکمت، سمجھ یا منصوبہ رب کا سامنا نہیں کر سکتا۔

[31] گھوڑے کو جنگ کے دن کے لئے تیار تو کیا جاتا ہے، لیکن فتح رب کے ہاتھ میں ہے۔

امثال — Chapters