[1] میرے بیٹے، میری بات قبول کر کے میرے احکام اپنے دل میں محفوظ رکھ۔
[2] اپنا کان حکمت پر دھر، اپنا دل سمجھ کی طرف مائل کر۔
[3] بصیرت کے لئے آواز دے، چلّا کر سمجھ مانگ۔
[4] اُسے یوں تلاش کر گویا چاندی ہو، اُس کا یوں کھوج لگا گویا پوشیدہ خزانہ ہو۔
[5] اگر تُو ایسا کرے تو تجھے رب کے خوف کی سمجھ آئے گی اور اللہ کا عرفان حاصل ہو گا۔
[6] کیونکہ رب ہی حکمت عطا کرتا، اُسی کے منہ سے عرفان اور سمجھ نکلتی ہے۔
[7] وہ سیدھی راہ پر چلنے والوں کو کامیابی فراہم کرتا اور بےالزام زندگی گزارنے والوں کی ڈھال بنا رہتا ہے۔
[8] کیونکہ وہ انصاف پسندوں کی راہوں کی پہرا داری کرتا ہے۔ جہاں بھی اُس کے ایمان دار چلتے ہیں وہاں وہ اُن کی حفاظت کرتا ہے۔
[9] تب تجھے راستی، انصاف، دیانت داری اور ہر اچھی راہ کی سمجھ آئے گی۔
[10] کیونکہ تیرے دل میں حکمت داخل ہو جائے گی، اور علم و عرفان تیری جان کو پیارا ہو جائے گا۔
[11] تمیز تیری حفاظت اور سمجھ تیری چوکیداری کرے گی۔
[12] حکمت تجھے غلط راہ اور کج رَو باتیں کرنے والے سے بچائے رکھے گی۔
[13] ایسے لوگ سیدھی راہ کو چھوڑ دیتے ہیں تاکہ تاریک راستوں پر چلیں،
[14] وہ بُری حرکتیں کرنے سے خوش ہو جاتے ہیں، غلط کام کی کج رَوی دیکھ کر جشن مناتے ہیں۔
[15] اُن کی راہیں ٹیڑھی ہیں، اور وہ جہاں بھی چلیں آوارہ پھرتے ہیں۔
[16] حکمت تجھے ناجائز عورت سے چھڑاتی ہے، اُس اجنبی عورت سے جو چِکنی چپڑی باتیں کرتی،
[17] جو اپنے جیون ساتھی کو ترک کر کے اپنے خدا کا عہد بھول جاتی ہے۔
[18] کیونکہ اُس کے گھر میں داخل ہونے کا انجام موت، اُس کی راہوں کی منزلِ مقصود پاتال ہے۔
[19] جو بھی اُس کے پاس جائے وہ واپس نہیں آئے گا، وہ زندگی بخش راہوں پر دوبارہ نہیں پہنچے گا۔
[20] چنانچہ اچھے لوگوں کی راہ پر چل پھر، دھیان دے کہ تیرے قدم راست بازوں کے راستے پر رہیں۔
[21] کیونکہ سیدھی راہ پر چلنے والے ملک میں آباد ہوں گے، آخرکار بےالزام ہی اُس میں باقی رہیں گے۔
[22] لیکن بےدین ملک سے مٹ جائیں گے، اور بےوفاؤں کو اُکھاڑ کر ملک سے خارج کر دیا جائے گا۔