[1] میرے بیٹے، کیا تُو اپنے پڑوسی کا ضامن بنا ہے؟ کیا تُو نے ہاتھ ملا کر وعدہ کیا ہے کہ مَیں کسی دوسرے کا ذمہ دار ٹھہروں گا؟
[2] کیا تُو اپنے وعدے سے بندھا ہوا، اپنے منہ کے الفاظ سے پھنسا ہوا ہے؟
[3] ایسا کرنے سے تُو اپنے پڑوسی کے ہاتھ میں آ گیا ہے، اِس لئے اپنی جان کو چھڑانے کے لئے اُس کے سامنے اوندھے منہ ہو کر اُسے اپنی منت سماجت سے تنگ کر۔
[4] اپنی آنکھوں کو سونے نہ دے، اپنے پپوٹوں کو اونگھنے نہ دے جب تک تُو اِس ذمہ داری سے فارغ نہ ہو جائے۔
[5] جس طرح غزال شکاری کے ہاتھ سے اور پرندہ چڑی مار کے ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اُسی طرح سرتوڑ کوشش کر تاکہ تیری جان چھوٹ جائے۔
[6] اے کاہل، چیونٹی کے پاس جا کر اُس کی راہوں پر غور کر! اُس کے نمونے سے حکمت سیکھ لے۔
[7] اُس پر نہ سردار، نہ افسر یا حکمران مقرر ہے،
[8] توبھی وہ گرمیوں میں سردیوں کے لئے کھانے کا ذخیرہ کر رکھتی، فصل کے دنوں میں خوب خوراک اکٹھی کرتی ہے۔
[9] اے کاہل، تُو مزید کب تک سویا رہے گا، کب جاگ اُٹھے گا؟
[10] تُو کہتا ہے، ”مجھے تھوڑی دیر سونے دے، تھوڑی دیر اونگھنے دے، تھوڑی دیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے دے تاکہ آرام کر سکوں۔“
[11] لیکن خبردار، جلد ہی غربت راہزن کی طرح تجھ پر آئے گی، مفلسی ہتھیار سے لیس ڈاکو کی طرح تجھ پر ٹوٹ پڑے گی۔
[12] بدمعاش اور کمینہ کس طرح پہچانا جاتا ہے؟ وہ منہ میں جھوٹ لئے پھرتا ہے،
[13] اپنی آنکھوں، پاؤں اور اُنگلیوں سے اشارہ کر کے تجھے فریب کے جال میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے۔
[14] اُس کے دل میں کجی ہے، اور وہ ہر وقت بُرے منصوبے باندھنے میں لگا رہتا ہے۔ جہاں بھی جائے وہاں جھگڑے چھڑ جاتے ہیں۔
[15] لیکن ایسے شخص پر اچانک ہی آفت آئے گی۔ ایک ہی لمحے میں وہ پاش پاش ہو جائے گا۔ تب اُس کا علاج ناممکن ہو گا۔
[16] رب چھ چیزوں سے نفرت بلکہ سات چیزوں سے گھن کھاتا ہے،
[17] وہ آنکھیں جو غرور سے دیکھتی ہیں، وہ زبان جو جھوٹ بولتی ہے، وہ ہاتھ جو بےگناہوں کو قتل کرتے ہیں،
[18] وہ دل جو بُرے منصوبے باندھتا ہے، وہ پاؤں جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے بھاگتے ہیں،
[19] وہ گواہ جو عدالت میں جھوٹ بولتا اور وہ جو بھائیوں میں جھگڑا پیدا کرتا ہے۔
[20] میرے بیٹے، اپنے باپ کے حکم سے لپٹا رہ، اور اپنی ماں کی ہدایت نظرانداز نہ کر۔
[21] اُنہیں یوں اپنے دل کے ساتھ باندھے رکھ کہ کبھی دُور نہ ہو جائیں۔ اُنہیں ہار کی طرح اپنے گلے میں ڈال لے۔
[22] چلتے وقت وہ تیری راہنمائی کریں، آرام کرتے وقت تیری پہرا داری کریں، جاگتے وقت تجھ سے ہم کلام ہوں۔
[23] کیونکہ باپ کا حکم چراغ اور ماں کی ہدایت روشنی ہے، تربیت کی ڈانٹ ڈپٹ زندگی بخش راہ ہے۔
[24] یوں تُو بدکار عورت اور دوسرے کی زناکار بیوی کی چِکنی چپڑی باتوں سے محفوظ رہے گا۔
[25] دل میں اُس کے حُسن کا لالچ نہ کر، ایسا نہ ہو کہ وہ پلک مار مار کر تجھے پکڑ لے۔
[26] کیونکہ گو کسبی آدمی کو اُس کے پیسے سے محروم کرتی ہے، لیکن دوسرے کی زناکار بیوی اُس کی قیمتی جان کا شکار کرتی ہے۔
[27] کیا انسان اپنی جھولی میں بھڑکتی آگ یوں اُٹھا کر پھر سکتا ہے کہ اُس کے کپڑے نہ جلیں؟
[28] یا کیا کوئی دہکتے کوئلوں پر یوں پھر سکتا ہے کہ اُس کے پاؤں جُھلس نہ جائیں؟
[29] اِسی طرح جو کسی دوسرے کی بیوی سے ہم بستر ہو جائے اُس کا انجام بُرا ہے، جو بھی دوسرے کی بیوی کو چھیڑے اُسے سزا ملے گی۔
[30] جو بھوک کے مارے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے چوری کرے اُسے لوگ حد سے زیادہ حقیر نہیں جانتے،
[31] حالانکہ اُسے چوری کئے ہوئے مال کو سات گُنا واپس کرنا ہے اور اُس کے گھر کی دولت جاتی رہے گی۔
[32] لیکن جو کسی دوسرے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے وہ بےعقل ہے۔ جو اپنی جان کو تباہ کرنا چاہے وہی ایسا کرتا ہے۔
[33] اُس کی پٹائی اور بےعزتی کی جائے گی، اور اُس کی شرمندگی کبھی نہیں مٹے گی۔
[34] کیونکہ شوہر غیرت کھا کر اور طیش میں آ کر بےرحمی سے بدلہ لے گا۔
[35] نہ وہ کوئی معاوضہ قبول کرے گا، نہ رشوت لے گا، خواہ کتنی زیادہ کیوں نہ ہو۔