[1] تب بِلدد سوخی نے جواب دے کر کہا،
[2] ”تُو کب تک اِس قسم کی باتیں کرے گا؟ کب تک تیرے منہ سے آندھی کے جھونکے نکلیں گے؟
[3] کیا اللہ انصاف کا خون کر سکتا، کیا قادرِ مطلق راستی کو آگے پیچھے کر سکتا ہے؟
[4] تیرے بیٹوں نے اُس کا گناہ کیا ہے، اِس لئے اُس نے اُنہیں اُن کے جرم کے قبضے میں چھوڑ دیا۔
[5] اب تیرے لئے لازم ہے کہ تُو اللہ کا طالب ہو اور قادرِ مطلق سے التجا کرے،
[6] کہ تُو پاک ہو اور سیدھی راہ پر چلے۔ پھر وہ اب بھی تیری خاطر جوش میں آ کر تیری راست بازی کی سکونت گاہ کو بحال کرے گا۔
[7] تب تیرا مستقبل نہایت عظیم ہو گا، خواہ تیری ابتدائی حالت کتنی پست کیوں نہ ہو۔
[8] گزشتہ نسل سے ذرا پوچھ لے، اُس پر دھیان دے جو اُن کے باپ دادا نے تحقیقات کے بعد معلوم کیا۔
[9] کیونکہ ہم خود کل ہی پیدا ہوئے اور کچھ نہیں جانتے، زمین پر ہمارے دن سائے جیسے عارضی ہیں۔
[10] لیکن یہ تجھے تعلیم دے کر بات بتا سکتے ہیں، یہ تجھے اپنے دل میں جمع شدہ علم پیش کر سکتے ہیں۔
[11] کیا آبی نرسل وہاں اُگتا ہے جہاں دلدل نہیں؟ کیا سرکنڈا وہاں پھلتا پھولتا ہے جہاں پانی نہیں؟
[12] اُس کی کونپلیں ابھی نکل رہی ہیں اور اُسے توڑا نہیں گیا کہ اگر پانی نہ ملے تو باقی ہریالی سے پہلے ہی سوکھ جاتا ہے۔
[13] یہ ہے اُن کا انجام جو اللہ کو بھول جاتے ہیں، اِسی طرح بےدین کی اُمید جاتی رہتی ہے۔
[14] جس پر وہ اعتماد کرتا ہے وہ نہایت ہی نازک ہے، جس پر اُس کا بھروسا ہے وہ مکڑی کے جالے جیسا کمزور ہے۔
[15] جب وہ جالے پر ٹیک لگائے تو کھڑا نہیں رہتا، جب اُسے پکڑ لے تو قائم نہیں رہتا۔
[16] بےدین دھوپ میں شاداب بیل کی مانند ہے۔ اُس کی کونپلیں چاروں طرف پھیل جاتی،
[17] اُس کی جڑیں پتھر کے ڈھیر پر چھا کر اُن میں ٹک جاتی ہیں۔
[18] لیکن اگر اُسے اُکھاڑا جائے تو جس جگہ پہلے اُگ رہی تھی وہ اُس کا انکار کر کے کہے گی، ’مَیں نے تجھے کبھی دیکھا بھی نہیں۔‘
[19] یہ ہے اُس کی راہ کی نام نہاد خوشی! جہاں پہلے تھا وہاں دیگر پودے زمین سے پھوٹ نکلیں گے۔
[20] یقیناً اللہ بےالزام آدمی کو مسترد نہیں کرتا، یقیناً وہ شریر آدمی کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتا۔
[21] وہ ایک بار پھر تجھے ایسی خوشی بخشے گا کہ تُو ہنس اُٹھے گا اور شادمانی کے نعرے لگائے گا۔
[22] جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ شرم سے ملبّس ہو جائیں گے، اور بےدینوں کے خیمے نیست و نابود ہوں گے۔“