Listen to this chapter
[1] پھر بِلدد سوخی نے جواب دے کر کہا،
[2] ”اللہ کی حکومت دہشت ناک ہے۔ وہی اپنی بلندیوں پر سلامتی قائم رکھتا ہے۔
[3] کیا کوئی اُس کے دستوں کی تعداد گن سکتا ہے؟ اُس کا نور کس پر نہیں چمکتا؟
[4] تو پھر انسان اللہ کے سامنے کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟ جو عورت سے پیدا ہوا وہ کس طرح پاک صاف ثابت ہو سکتا ہے؟
[5] اُس کی نظر میں نہ چاند پُرنور ہے، نہ ستارے پاک ہیں۔
[6] تو پھر انسان کس طرح پاک ٹھہر سکتا ہے جو کیڑا ہی ہے؟ آدم زاد تو مکوڑا ہی ہے۔“