[1] ایوب نے جواب میں کہا،
[2] ”بےشک آج میری شکایت سرکشی کا اظہار ہے، حالانکہ مَیں اپنی آہوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوں۔
[3] کاش مَیں اُسے پانے کا علم رکھوں تاکہ اُس کی سکونت گاہ تک پہنچ سکوں۔
[4] پھر مَیں اپنا معاملہ ترتیب وار اُس کے سامنے پیش کرتا، مَیں اپنا منہ دلائل سے بھر لیتا۔
[5] تب مجھے اُس کے جوابوں کا پتا چلتا، مَیں اُس کے بیانات پر غور کر سکتا۔
[6] کیا وہ اپنی عظیم قوت مجھ سے لڑنے پر صَرف کرتا؟ ہرگز نہیں! وہ یقیناً مجھ پر توجہ دیتا۔
[7] اگر مَیں وہاں اُس کے حضور آ سکتا تو دیانت دار آدمی کی طرح اُس کے ساتھ مقدمہ لڑتا۔ تب مَیں ہمیشہ کے لئے اپنے منصف سے بچ نکلتا!
[8] لیکن افسوس، اگر مَیں مشرق کی طرف جاؤں تو وہ وہاں نہیں ہوتا، مغرب کی جانب بڑھوں تو وہاں بھی نہیں ملتا۔
[9] شمال میں اُسے ڈھونڈوں تو وہ دکھائی نہیں دیتا، جنوب کی طرف رُخ کروں تو وہاں بھی پوشیدہ رہتا ہے۔
[10] کیونکہ وہ میری راہ کو جانتا ہے۔ اگر وہ میری جانچ پڑتال کرتا تو مَیں خالص سونا ثابت ہوتا۔
[11] میرے قدم اُس کی راہ میں رہے ہیں، مَیں راہ سے نہ بائیں، نہ دائیں طرف ہٹا بلکہ سیدھا اُس پر چلتا رہا۔
[12] مَیں اُس کے ہونٹوں کے فرمان سے باز نہیں آیا بلکہ اپنے دل میں ہی اُس کے منہ کی باتیں محفوظ رکھی ہیں۔
[13] اگر وہ فیصلہ کرے تو کون اُسے روک سکتا ہے؟ جو کچھ بھی وہ کرنا چاہے اُسے عمل میں لاتا ہے۔
[14] جو بھی منصوبہ اُس نے میرے لئے باندھا اُسے وہ ضرور پورا کرے گا۔ اور اُس کے ذہن میں مزید بہت سے ایسے منصوبے ہیں۔
[15] اِسی لئے مَیں اُس کے حضور دہشت زدہ ہوں۔ جب بھی مَیں اِن باتوں پر دھیان دوں تو اُس سے ڈرتا ہوں۔
[16] اللہ نے خود مجھے شکستہ دل کیا، قادرِ مطلق ہی نے مجھے دہشت کھلائی ہے۔
[17] کیونکہ نہ مَیں تاریکی سے تباہ ہو رہا ہوں، نہ اِس لئے کہ گھنے اندھیرے نے میرے چہرے کو ڈھانپ دیا ہے۔