05 October 2026
البدور البازغہ | 36 | کمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کا باہمی تعلق، مراتب اور عالمِ لاہوت کی مشابہت کا تحلیلی مطالعہ
دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ
About
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت
درس : 36
(دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 7)
کمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کا باہمی تعلق، مراتب اور عالمِ لاہوت کی مشابہت کا تحلیلی مطالعہ
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : یکم؍ مئی 2024ء /22؍ شوال المکرم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:16 سابقہ چھ فصلوں کا خلاصہ؛ فطری طور پر ہر انسان کے لیے معرفتِ خداوندی کا حصول ممکن ہے
2:07 فصل (7) میں نوعِ انسان کے کمال کی اساسیات؛ حالتِ ’ایمان‘ اور ’احسان‘ کا بیان نیز ایمان و احسان کا باہمی تعلق
4:36 کمالِ نوعِ انسان کے دو پہلو، ۱) ایمان: علم و ادراک کی لوح (تختی) پر غیر بنی آدم سے ممتاز اور روشن صورتِ الہی کا منقش ہونا اور قطعی طور پر یقین کی کیفیت کا حاصل ہونا
13:18 ۲) احسان: دل میں ایسی حالت کا پیدا ہونا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور عالمِ لاہوت کے رنگ سے رنگین ہو جائے
17:06 ’’صِبغةُ الله تعالىٰ، و تلوُّنه بِلَون اللّاهُوت‘‘ اصطلاحات کی وضاحت
18:11 انسانی قلب پر طاری ہونے والی الہی حالتیں؛ عالمِ لاہوت کی نقل اتارنا (مشابہت اختیار کرنا) اور اس کی طرف جھانکنا ’احسان‘ کہلاتی ہیں
23:46 ایمان و احسان میں بڑا بنیادی فرق
25:42 احسان کی اہمیت: ایمان کا مغز، اس کا منتہا و مقصد
27:32 صفتِ احسان کی حالت کے بغیر‘ انسان کمال حاصل نہیں کر سکتا!
30:12 صفتِ احسان حاصل کرنے والے کے لیے تین لازمی امور:
30:56 (الف) طبعی تشویشات و خارجی تعلقات سے فارغ ہو کر تنہائی میں توجہ الی اللہ اور عالمِ لاہوت کی طرف یکسو ہونا
34:27 (ب) ایمانیات کی علمی تصحیح کا درست طریقۂ کار اختیار کرنا
35:38 (ج) دنیاوی علائق سے تجرد (علیحدگی) اختیار کرکے عالمِ لاہوت (یادِ الہی) کا ذکر، غیر اللہ پر ترجیح اور ایمان و یقین کی کیفیت پیدا کرنا
39:14 اللہ کی عظمتِ شان اور بندوں پر بے پایاں انعامات پر دلالت کرنے والی نشانیوں پر غور و فکر کرنا اور اعضاء (جوارح)، خیال و وہم کو عالمِ لاہوت سے مناسبت یا اس کی مشابہت رکھنے والے کاموں کی طرف لگانا اور اس کی مشق کرنا
44:30 علمِ احسان کا ابتدائی درجہ: صفتِ احسان کے حصول کے لیے ایک چلّہ (چالیس دن) تنہائی اور خلوت اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت اور حکمت و فلسفہ
45:36 علمِ احسان کا درمیانہ درجہ: قلب میں توجہ الی اللہ کی حالت اور رغبت و شوق کا پیدا ہونا اور دور سے رؤیتِ باری تعالیٰ کی کیفیت کا حاصل ہونا
49:31 اس کا لازمی نتیجہ‘ کائنات کی ہر شے میں اللہ کی رؤیت، عین الیقین کی حالت اور ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف خالص توجہ اور ہر فیصلے میں اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیمِ خم
51:18 قلب کی حالت؛ اللہ تعالیٰ پر توکل، اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرنا، دل سے نورانی کیفیات کے قطروں کا زبان و اعضاء پر جاری ہونا اور نورِ الہی اور اس کی سکینت و اطمئنان کا اسے ڈھانپ لینا
55:50 حالتِ احسان کا آخری مرتبہ (ان مراتب کو حاصل کرنے والے شخص کی حالت): اعلی درجے کی کامیابی کا حصول، معنی (قلب و عقل) کے اعتبار سے ’الٰہی شخص‘ (اللہ کا ولی) اور عالمِ تدنُّس (بظاہر دیکھنے) میں ایک ’عام آدمی‘ (مادی وجود)
1:01:47 حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی قلبی و ظاہری حالت و کیفیت
1:02:44 احسان کے تین مرتبے؛ ابتدائی، درمیانہ اور انتہائی درجہ
1:03:04 عالمِ قُدُس کی نقل اتارتے (مشابہت اختیار کرتے) وقت‘ مُحسِن (صفتِ احسان حاصل کرنے والے) سے غیر معمولی افعال و آثار ظاہر ہوتے ہیں
1:04:51 مُحسِن کے بہت سے مرتبے؛ دنیا سے علیحدگی، قلب میں انقیاد و فرمانبرداری نیز اعلیٰ درجے کی کوئی انتہا و حد نہیں!
1:06:14 ناسوتی عالم‘ لوہے کے گنبد (پنجرے) کی مانند نیز ایک مدت تک اس پنجرے میں قید رہنا ہے
1:08:48 احسان کے ادنیٰ مراتب میں سے ہے کہ اس قبّے میں سوراخ کر کے عالمِ لاہوت کی طرف متوجہ ہو نیز اس سوراخ کے اثرات‘ آخرت میں ظاہر ہوتے ہیں
1:11:02 جوارح (اعضا و اعمال) میں اور ملابسات (طرزِ زندگی) میں چاروں اخلاق کے ساتھ متصف ہونا‘ صفتِ احسان کا عمومی درجہ جو ہر انسان کے لیے لازمی و ضروری ہے
1:13:05 احسان کے اس درجے کو اختیار کرکے اس قبّے میں سوراخ کرنا ہی دراصل ’’فطرت‘‘ ہے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا
درس : 36
(دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 7)
کمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کا باہمی تعلق، مراتب اور عالمِ لاہوت کی مشابہت کا تحلیلی مطالعہ
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : یکم؍ مئی 2024ء /22؍ شوال المکرم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:16 سابقہ چھ فصلوں کا خلاصہ؛ فطری طور پر ہر انسان کے لیے معرفتِ خداوندی کا حصول ممکن ہے
2:07 فصل (7) میں نوعِ انسان کے کمال کی اساسیات؛ حالتِ ’ایمان‘ اور ’احسان‘ کا بیان نیز ایمان و احسان کا باہمی تعلق
4:36 کمالِ نوعِ انسان کے دو پہلو، ۱) ایمان: علم و ادراک کی لوح (تختی) پر غیر بنی آدم سے ممتاز اور روشن صورتِ الہی کا منقش ہونا اور قطعی طور پر یقین کی کیفیت کا حاصل ہونا
13:18 ۲) احسان: دل میں ایسی حالت کا پیدا ہونا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور عالمِ لاہوت کے رنگ سے رنگین ہو جائے
17:06 ’’صِبغةُ الله تعالىٰ، و تلوُّنه بِلَون اللّاهُوت‘‘ اصطلاحات کی وضاحت
18:11 انسانی قلب پر طاری ہونے والی الہی حالتیں؛ عالمِ لاہوت کی نقل اتارنا (مشابہت اختیار کرنا) اور اس کی طرف جھانکنا ’احسان‘ کہلاتی ہیں
23:46 ایمان و احسان میں بڑا بنیادی فرق
25:42 احسان کی اہمیت: ایمان کا مغز، اس کا منتہا و مقصد
27:32 صفتِ احسان کی حالت کے بغیر‘ انسان کمال حاصل نہیں کر سکتا!
30:12 صفتِ احسان حاصل کرنے والے کے لیے تین لازمی امور:
30:56 (الف) طبعی تشویشات و خارجی تعلقات سے فارغ ہو کر تنہائی میں توجہ الی اللہ اور عالمِ لاہوت کی طرف یکسو ہونا
34:27 (ب) ایمانیات کی علمی تصحیح کا درست طریقۂ کار اختیار کرنا
35:38 (ج) دنیاوی علائق سے تجرد (علیحدگی) اختیار کرکے عالمِ لاہوت (یادِ الہی) کا ذکر، غیر اللہ پر ترجیح اور ایمان و یقین کی کیفیت پیدا کرنا
39:14 اللہ کی عظمتِ شان اور بندوں پر بے پایاں انعامات پر دلالت کرنے والی نشانیوں پر غور و فکر کرنا اور اعضاء (جوارح)، خیال و وہم کو عالمِ لاہوت سے مناسبت یا اس کی مشابہت رکھنے والے کاموں کی طرف لگانا اور اس کی مشق کرنا
44:30 علمِ احسان کا ابتدائی درجہ: صفتِ احسان کے حصول کے لیے ایک چلّہ (چالیس دن) تنہائی اور خلوت اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت اور حکمت و فلسفہ
45:36 علمِ احسان کا درمیانہ درجہ: قلب میں توجہ الی اللہ کی حالت اور رغبت و شوق کا پیدا ہونا اور دور سے رؤیتِ باری تعالیٰ کی کیفیت کا حاصل ہونا
49:31 اس کا لازمی نتیجہ‘ کائنات کی ہر شے میں اللہ کی رؤیت، عین الیقین کی حالت اور ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف خالص توجہ اور ہر فیصلے میں اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیمِ خم
51:18 قلب کی حالت؛ اللہ تعالیٰ پر توکل، اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرنا، دل سے نورانی کیفیات کے قطروں کا زبان و اعضاء پر جاری ہونا اور نورِ الہی اور اس کی سکینت و اطمئنان کا اسے ڈھانپ لینا
55:50 حالتِ احسان کا آخری مرتبہ (ان مراتب کو حاصل کرنے والے شخص کی حالت): اعلی درجے کی کامیابی کا حصول، معنی (قلب و عقل) کے اعتبار سے ’الٰہی شخص‘ (اللہ کا ولی) اور عالمِ تدنُّس (بظاہر دیکھنے) میں ایک ’عام آدمی‘ (مادی وجود)
1:01:47 حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی قلبی و ظاہری حالت و کیفیت
1:02:44 احسان کے تین مرتبے؛ ابتدائی، درمیانہ اور انتہائی درجہ
1:03:04 عالمِ قُدُس کی نقل اتارتے (مشابہت اختیار کرتے) وقت‘ مُحسِن (صفتِ احسان حاصل کرنے والے) سے غیر معمولی افعال و آثار ظاہر ہوتے ہیں
1:04:51 مُحسِن کے بہت سے مرتبے؛ دنیا سے علیحدگی، قلب میں انقیاد و فرمانبرداری نیز اعلیٰ درجے کی کوئی انتہا و حد نہیں!
1:06:14 ناسوتی عالم‘ لوہے کے گنبد (پنجرے) کی مانند نیز ایک مدت تک اس پنجرے میں قید رہنا ہے
1:08:48 احسان کے ادنیٰ مراتب میں سے ہے کہ اس قبّے میں سوراخ کر کے عالمِ لاہوت کی طرف متوجہ ہو نیز اس سوراخ کے اثرات‘ آخرت میں ظاہر ہوتے ہیں
1:11:02 جوارح (اعضا و اعمال) میں اور ملابسات (طرزِ زندگی) میں چاروں اخلاق کے ساتھ متصف ہونا‘ صفتِ احسان کا عمومی درجہ جو ہر انسان کے لیے لازمی و ضروری ہے
1:13:05 احسان کے اس درجے کو اختیار کرکے اس قبّے میں سوراخ کرنا ہی دراصل ’’فطرت‘‘ ہے
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
https://www.rahimia.org/
https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
https://www.youtube.com/@rahimia-institute
منجانب: رحیمیہ میڈیا